LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست: اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ میں اہم سماعت وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں نئی آٹو پالیسی اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑی مراعات کی منظوری حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹس پر عملدرآمد تیز کرنے کا فیصلہ میر رضا کیس: وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجھار جوڈیشل کمیشن میں پیش سیف گیمز کے کامیاب انعقاد کیلئے اسپورٹس انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کا بڑا فیصلہ پاکستان میں ڈیجیٹل لین دین کرنے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر حل طلب مسئلہ، بھارت حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا: دفتر خارجہ حوثی باغیوں کا سعودیہ کے 3 شہروں پر حملہ، یمنی وزیر دفاع کو یرغمال بنا لیا اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ پر پابندی اور توہینِ عدالت کیس کی سماعت، پارٹی سے موقف طلب پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران منفی رجحان برقرار امریکی اڈے پر ایرانی حملے میں 9 جنگی طیارے نشانہ بن گئے بھاری ٹیکس و مارجن وصولی: پانچ روز میں پٹرول 21.88 روپے فی لیٹر مہنگا مڈ ٹرم انتخابات میں کامیابی پر تمام امریکی شہریوں کو 5,000 ڈالر دینے کا اعلان ایران جنگ جنوری 2029ء تک جاری رہنے کا خدشہ ہے: امریکی میڈیا روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات: ڈائریکٹر سی آئی اے کا فعال کردار ادا کرنے کا امکان

بھیڑوں کو بھیڑیوں سے بچانے کا انوکھا طریقہ

Web Desk

24 June 2026

آسٹریا کے ایک موجد نے مویشیوں پر بھیڑیوں کے بڑھتے ہوئے جان لیوا حملوں سے نمٹنے کے لیے بھیڑوں کو پہنانے واسطے ایک انتہائی منفرد زرہ (بکتر) تیار کر لی ہے۔ تاہم، کسانوں کی جانب سے اس اچھوتی ایجاد کو قائل کرنے میں ناکامی کا سامنا ہے اور اسے عوام کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

جنوبی آسٹریا کے شہر وِیلاک سے تعلق رکھنے والے موجد رُڈولف شاؤباخ نے بتایا کہ انہیں یہ انوکھا الائنمنٹ بنانے کا خیال آسٹریا اور جرمنی کے پہاڑی علاقوں میں بھیڑیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کو دیکھ کر آیا۔ تقریباً تین سال کی مسلسل محنت اور سائنسی ریسرچ کے بعد انہوں نے ایک ایسا کامیاب پروٹوٹائپ (ماڈل) تیار کیا ہے جسے حال ہی میں آسٹریائی الپس کے مختلف فارموں پر تجرباتی طور پر آزمایا گیا۔

موجد کے مطابق ان کا بنیادی مقصد ایک ایسی حفاظتی ڈھال بنانا تھا جو بھیڑوں کی گردن اور جسم کو بھیڑیوں کے خطرناک اور تیز دانتوں سے محفوظ رکھ سکے۔ اس ڈیزائن کی خاص بات یہ ہے کہ اسے پہن کر جانور آسانی سے ہرا چارہ چر بھی سکتے ہیں اور ان کی آزادانہ نقل و حرکت بھی بالکل برقرار رہتی ہے۔ اس حفاظتی جیکٹ کو بنانے کے لیے انہوں نے ہلکے مگر انتہائی مضبوط پلاسٹک کے جال پر نوکیلے کانٹے (Spikes) نصب کیے ہیں، جو کسی بھی حملہ آور بھیڑیے کو کاٹنے کی صورت میں شدید تکلیف پہنچا کر دوبارہ حملہ کرنے سے فوری روک دیتے ہیں۔

“بھیڑیا ایک انتہائی ذہین اور مکار جانور ہے۔ اگر اسے اپنے شکار کو پہلی بار کاٹنے پر شدید جسمانی تکلیف یا چوٹ پہنچے، تو وہ اپنے دفاعی مائنڈ سیٹ کے باعث دوبارہ اسی شکار پر حملہ کرنے سے ہمیشہ گریز کرے گا۔

رُڈولف کی اس انوکھی ایجاد کو مارکیٹ میں کسانوں اور لائیو سٹاک کے ماہرین کی جانب سے کوئی خاص پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی، بلکہ اس پر درج ذیل وجوہات کی بنا پر سخت اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں: ناقدین کا کہنا ہے کہ بھیڑوں کے لیے یہ ہائی ٹیک ’چین میل‘ (لوہے یا پلاسٹک کا لباس) نہ صرف بے حد مہنگا ہے بلکہ سینکڑوں مویشیوں کے ریوڑ کے لیے یہ بالکل غیر عملی حل ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بات کی کوئی حتمی سائنسی ضمانت موجود نہیں کہ یہ زرہ واقعی بھیڑیوں کے طاقتور حملوں اور ان کی سٹریٹجک صوابدید کو مؤثر طریقے سے ناکام بنا سکے گی۔

اگرچہ دنیا بھر میں بھیڑیوں اور مویشی پال کسانوں کے درمیان بڑھتے ہوئے زمینی تنازعات کے حل کے لیے جدید ٹیکنالوجی، الیکٹرک فینسنگ اور دیگر حفاظتی اقدامات پر کام تیزی سے جاری ہے، لیکن فی الحال بھیڑوں کی یہ نوکیلی ’زرہ بکتر‘ کسان برادری کو اپنا گرویدہ بنانے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔