اے آئی ٹیکنالوجی جلد انسانی ذہانت کو پیچھے چھوڑ دے گی: مسک کی پیشگوئی
Web Desk
23 June 2026
ٹیسلا، اسپیس ایکس اور ‘ایکس اے آئی’ (xAI) کے بانی و دنیا کے معروف ترین ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت (AI) کے حوالے سے ایک بار پھر انتہائی سنسنی خیز اور نئی پیش گوئی کر دی ہے۔ ایلون مسک کا ماننا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی آئندہ چار سے پانچ برسوں میں نہ صرف کسی ایک انسان بلکہ دنیا کے تمام انسانوں کی مجموعی اور مشترکہ ذہانت سے بھی زیادہ صلاحیت اور برتری حاصل کر لے گی۔
یہ تزویراتی بحث ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اس وقت شروع ہوئی جب نامور کاروباری شخصیت اور مصنف پیٹر ایچ ڈیامنڈس نے ایک مؤقف پیش کیا کہ “انسانی ترقی کا انحصار صرف ذہانت پر نہیں بلکہ وسائل اور جدید ترین ٹیکنالوجی تک رسائی پر بھی مشروط ہے”۔ اس نظریے پر اپنا ردِعمل دیتے ہوئے ایلون مسک نے لکھا: اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ مصنوعی ذہانت اگلے چار یا پانچ سالوں کے اندر اندر روئے زمین پر موجود تمام انسانوں کی مجموعی ذہانت (Collective Human Intelligence) کے گراف سے تجاوز کر جائے گی۔
ایلون مسک طویل عرصے سے اے آئی کے مستقبل پر کھل کر بات کرتے رہے ہیں۔ وہ ایک طرف جہاں اس ٹیکنالوجی کو انسانی وجود کے لیے ایک ممکنہ اور ہولناک خطرہ قرار دیتے ہیں، وہیں دوسری جانب اسے انسانی تاریخ کی سب سے بڑی اور انقلابی ترین ایجاد بھی مانتے ہیں۔
ایلون مسک نے اپنے ایک اور پیغام میں مستقبل کی دنیا کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا کہ اے آئی اور روبوٹکس کے ملاپ سے دنیا میں ایک ایسا حیرت انگیز دور آنے والا ہے جہاں اشیاء اور خدمات کی پیداوار میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا جبکہ ان کی مینوفیکچرنگ لاگت (Cost) نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی۔
ان کے مطابق اس پورے وژن کا سب سے اہم ستون ٹیسلا کا ہیومنائیڈ روبوٹ پروگرام ’آپٹیمس‘ (Optimus) ہے، جو مستقبل قریب میں فیکٹریوں، لاجسٹکس، سپلائی چین اور تعمیراتی شعبوں میں انسانوں کی جگہ لے گا اور ہر وہ کام سرانجام دے گا جو دہرایا جانے والا، انتہائی بورنگ، مشکل یا انسانی جان کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، دنیا بھر کے نامور سائنسدانوں اور ٹیک ماہرین کی ایک بہت بڑی تعداد ایلون مسک کے اس مبالغہ آمیز دعوے اور ٹائم فریم سے بالکل اتفاق نہیں کرتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ لارج لینگویج ماڈلز (LLMs) اور روبوٹکس میں حیرت انگیز رفتار سے ترقی ہو رہی ہے، لیکن انسانی شعور، جذبات، تخلیقی صلاحیت اور سائنسی بصیرت جیسی برتر ذہانت (Artificial General Intelligence) کو مکمل طور پر کاپی کرنے کے لیے ابھی کئی پیچیدہ سائنسی، ریاضیاتی اور تکنیکی رکاوٹیں موجود ہیں جنہیں چند سالوں میں عبور کرنا ناممکن ہے۔
متعلقہ عنوانات
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ
7 November 2026
میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
6 November 2026