LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران مزاحمت اور استقامت کے باعث دنیا کو حیران کرنے والی طاقت بن کر ابھرا: پزشکیان جماعت اسلامی کا 12 ربیع الاول کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان مہنگی منگوائی گئی چینی سستی برآمدکرنےکی اجازت، قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان چین کے بغیر امریکا کیلئے ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنا ممکن نہیں: نیویارک ٹائمز بھارت کے قریب مال بردار بحری جہاز ڈوب گیا، 24 افراد لاپتا سویڈن: سکول میں تلوار بردار نوجوان کا حملہ، 17 سالہ طالبہ ہلاک اور تین زخمی بیلجیئم میں گاڑیاں بیچنے والا نوجوان ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد شہزادہ قرار افغانستان میں طالبان رجیم کی غیرقانونی پابندیاں، خواتین خودکشی پر مجبور ایرانی ہیکرز کے برطانیہ پر پہلے سائبر حملے کا انکشاف، پاور پلانٹ 4 روز تک بند رہا نائیجیریا میں مسلح افراد کے متعدد دیہات پر حملے، 40 افراد ہلاک، 100 سے زائد اغوا ایران کیخلاف معاشی جنگ سے امریکا کو کوئی کامیابی نہیں ملے گی، سابق امریکی وزیر دفاع برطانیہ میں خوفناک ٹریفک حادثہ، 2 پولیس اہلکاروں سمیت 7 افراد ہلاک مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کیلئے سٹریٹجک وسعت و علاقائی توازن کا ذریعہ قرار امریکی عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ کا 75 ممالک پر عائد ویزا پابندی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا امریکا کی معاشی جنگ میں مدد کرنے والے ممالک کے مفادات کو نشانہ بنائیں گے، محسن رضائی

وزیراعظم اور ایرانی صدر کی پریس کانفرنس، مشترکہ امن کوششوں کا اعادہ

Web Desk

23 June 2026

اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاک ایران تعلقات، خطے میں امن اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب کا آغاز فارسی زبان اور ایک خوبصورت شعر سے کیا، جس پر ایرانی صدر اور ان کے وفد نے تالیاں بجا کر بھرپور پذیرائی کی۔ وزیراعظم نے ایران کے ساتھ گہری دوستی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ “دوست وہی ہوتا ہے جو مشکل وقت میں ہاتھ تھامے”۔ انہوں نے ایرانی صدر کے دورے کو باعثِ مسرت قرار دیا اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث پاکستان کے کردار کا ذکر کیا۔ شہباز شریف نے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت کو سراہتے ہوئے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے پر خوشی کا اظہار کیا، تاہم قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس بھی جتایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور ایران ہزاروں سالہ تہذیبی رشتوں میں بندھے ہیں اور شرپسند عناصر امن معاہدے کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب، ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے شاندار میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور اپنی تقریر کا آغاز مفکرِ پاکستان علامہ اقبالؒ کے شعر سے کیا۔ انہوں نے پاکستان کو صرف ہمسایہ نہیں بلکہ بھائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک “یک جان، دو قالب” ہیں۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ تہران اور اسلام آباد کے تعلقات باہمی اعتماد پر مبنی ہیں اور حالیہ واقعات نے ان روابط کو نئی جہت دی ہے۔ انہوں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کو پاکستان پر اعتماد کا مظہر قرار دیتے ہوئے صدرِ مملکت، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کو انتہائی تعمیری اور کامیاب قرار دیا۔