راکٹ سے خارج ہونیوالے دھویں سے متعلق سائنس دانوں کا انتباہ
Web Desk
17 June 2026
برطانیہ کی یونیورسٹی کالج لندن (UCL) کی قیادت میں ہونے والی ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے کہ راکٹ لانچنگ کے دوران خارج ہونے والے بلیک کاربن (سیاہ کاربن) کے ذرات فضا کی بالائی تہوں میں، زمین پر پیدا ہونے والی عام سیاہ راکھ کے مقابلے میں، کہیں زیادہ طویل عرصے تک موجود رہتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق، سینکڑوں یا ہزاروں سیٹلائٹس پر مشتمل میگا کانسٹیلیشنز (جیسے سٹار لنک وغیرہ) کو خلا میں بھیجنے کے دوران پیدا ہونے والی یہ راکھ زمین کے مجموعی موسمیاتی نظام پر ایسے پیچیدہ اثرات ڈال سکتی ہے جنہیں ابھی پوری طرح سمجھا نہیں گیا، مگر یہ ممکنہ طور پر انتہائی سنگین اور تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
تحقیق کے مرکزی مصنف اور یونیورسٹی کالج لندن کے ماہرِ فضائی کیمیا (Atmospheric Chemist) کونر بارکر کے مطابق، راکٹ لانچنگ فضائی آلودگی کا ایک بالکل منفرد اور خطرناک ذریعہ ہے۔ یہ نقصان دہ کیمیائی مادّوں اور سیاہ راکھ کو کسی درمیانی واسطے کے بغیر، براہِ راست فضا کی بالائی تہوں میں پہنچاتے ہیں، جس کے نتیجے میں زمین کا وہ آخری حصہ جو اب تک نسبتاً صاف اور انسانی آلودگی سے محفوظ تھا، وہ بھی تیزی سے آلودہ ہو رہا ہے۔
سال 2019 کے بعد سے خلا میں بھیجے جانے والے راکٹوں کی تعداد میں حیران کن حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور فی الحال اس رفتار کے کم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ صورتحال یہ ہے کہ صرف رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں ہی اتنے راکٹ لانچ ہو چکے ہیں جتنے پورے سال 2020 میں لانچ ہوئے تھے۔
خلائی صنعت کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ سال کے اختتام تک لانچز کی مجموعی تعداد، گزشتہ سال 2025 کے ریکارڈ 329 لانچز سے بھی آگے نکل کر ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کر سکتی ہے۔ خلائی مہمات میں اس تیز رفتار اضافے کی سب سے بڑی وجہ امریکی کمپنی اسپیس ایکس (SpaceX) کے فیلکن 9 راکٹوں کی مسلسل پروازیں ہیں، جبکہ دوسری جانب چین نے بھی گزشتہ سال 2025 میں ریکارڈ 92 راکٹ لانچ کرنے کی کوششیں کر کے اس فضائی آلودگی میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔
سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر خلا میں سیٹلائٹس بھیجنے کی یہی رفتار برقرار رہی تو فضا کی بالائی تہوں میں بلیک کاربن کی یہ مستقل تہہ زمین کے درجہ حرارت اور اوزون کی تہہ کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے
متعلقہ عنوانات
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ
7 November 2026
میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
6 November 2026