LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران امریکہ معاہدہ میں پاکستان کا کردار ثالث کا ہے: سکیورٹی ذرائع صدرِ مملکت نے 4 اہم بلوں کی باضابطہ منظوری دے دی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان پنجاب بجٹ 2026-27 پیش ایران معاہدہ لبنان پر اسرائیلی حملے کے باوجود برقرار رہ سکتا ہے: ٹرمپ، امیر قطر سے گفتگو کشمیر میں فارن فنڈڈ تنظیم مہاجرین نشستوں پر بلیک میل کر رہی ہے: خواجہ آصف پاکستان سفارتی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کر رہا ہے، رانا قاسم نون پنجاب کابینہ نے 5850 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی اتحاد بین المسلمین پنجاب کمیٹی کا محرم میں امن وامان، بین المسالک ہم آہنگی پر اتفاق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہمارا 2 رکنی بنچ ہی کافی ہے: وفاقی آئینی عدالت وزیراعظم کی گلگت میں شمسی توانائی منصوبہ جلد ازجلد مکمل کرنے کی ہدایت ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کا سوڈان میں خوراک کے بدلے جنسی زیادتی کا اعتراف توانائی بحران برقرار، سپلائی چین کا تعطل ختم ہونے میں وقت لگے گا: آئی ایم ایف محسن نقوی کی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات، خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو امریکی عزم کو جانچنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے: ایرانی صدر ایرانی فوج کا معاہدے پر عملدرآمد کے دوران پہلے سے زیادہ چوکس رہنے کا اعلان

سندھ میں خسرہ کی وبا شدت اختیار کرگئی، 53 بچے جاں بحق

Web Desk

16 June 2026

سندھ بھر میں متعدی وبائی مرض خسرہ (Measles) کی وبا انتہائی تیزی سے پھیلنے کا انکشاف ہوا ہے، جہاں رواں سال کے دوران صوبے میں 2 ہزار سے زائد بچے اس موذی مرض کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ خسرہ کی پیچیدگیوں کے باعث اب تک 53 معصوم بچے اپنی جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

محکمہ صحت کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، سندھ میں خسرہ کے اس خطرناک اور تیز رفتار پھیلاؤ نے طبی ماہرین اور ماہرینِ صحت کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس جان لیوا بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے اور معصوم بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے حفاظتی ٹیکوں (ویکسینیشن) کا بروقت استعمال اور آگاہی انتہائی ضروری ہو چکی ہے۔

معروف ماہرِ امراضِ اطفال (پیڈیاٹریشن) ڈاکٹر خالد شفیع نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ رواں سال اب تک صرف سندھ بھر میں خسرہ کے دو ہزار سے زائد تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے سنسنی خیز اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر میں اب تک خسرہ سے مجموعی طور پر 96 بچوں کی اموات ہو چکی ہیں، جن میں سے نصف سے زائد یعنی صرف سندھ میں جاں بحق ہونے والے 53 بچے شامل ہیں، جو خسرہ کے حملے کے بعد پیدا ہونے والی مختلف طبی پیچیدگیوں (Complications) کے باعث جانبر نہ ہو سکے۔

طبی ماہرین اور ڈاکٹروں کے مطابق، صوبے میں خسرہ کی وبا اس حد تک پھیلنے کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ والدین کی جانب سے بچوں کو ای پی آئی (EPI) شیڈول کے تحت حفاظتی ٹیکے نہ لگوانا یا کورس ادھورا چھوڑنا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ خسرہ ایک سو فیصد قابلِ علاج اور حفاظتی ٹیکوں کے ذریعے قابلِ تدارک مرض ہے، تاہم پسماندہ اور دیہی علاقوں میں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے اور ویکسینیشن سے دوری کے باعث یہ متعدی بیماری ایک دوسرے سے بچوں میں تیزی سے منتقل ہو رہی ہے۔ ماہرینِ صحت نے والدین پر پرزور زور دیا ہے کہ وہ افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے اور نائن منتھ کورس ضرور کروائیں تاکہ انہیں اس خطرناک اور معذور کر دینے والی بیماری سے محفوظ رکھا جا سکے۔

واضح رہے کہ خسرہ ایک انتہائی متعدی اور وائرل وبائی مرض ہے جو بنیادی طور پر کمزور قوتِ مدافعت والے بچوں کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔ تیز بخار، نزلہ، زکام، شدید کھانسی، آنکھوں کا سرخ ہونا اور جسم پر سرخ رنگ کے دانے یا خارش ہونا اس کی ابتدائی اور واضح علامات میں شامل ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق، جب یہ مرض شدت اختیار کرتا ہے تو بچوں کے اندرونی مدافعت کے نظام کو شدید نقصان پہنچاتا ہے، جس سے نمونیا یا دماغی سوزش جیسی پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں جو بعض اوقات بچوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔