ایران معاہدہ لبنان پر اسرائیلی حملے کے باوجود برقرار رہ سکتا ہے: ٹرمپ، امیر قطر سے گفتگو
Web Desk
16 June 2026
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بین الاقوامی سیاست میں ایک اور بڑا اور تزویراتی بیان دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا حالیہ تاریخی معاہدہ لبنان میں کسی بھی ممکنہ اسرائیلی فوجی حملے یا کارروائی کے باوجود مکمل طور پر برقرار رہ سکتا ہے۔ جی سیون (G7) سمٹ کے موقع پر امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ایک اہم اور اعلیٰ سطح کی گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ ایران معاہدے کا دوسرا مرحلہ طے کرنے کے لیے ہونے والے مستقبل کے مذاکرات نسبتاً آسان ہوں گے اور موجودہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان مزید دور رس سفارتی کامیابیوں کی مضبوط بنیاد بنے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی کے واقعات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ ہفتے ایران پر فوجی حملہ کرنے کے حق میں بالکل نہیں تھے، تاہم اس وقت ہمارے پاس اس کارروائی کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل راستہ موجود نہیں تھا۔ انہوں نے ایران کے ساتھ ہونے والی ڈیل کو انتہائی منصفانہ اور اہم قرار دیتے ہوئے اس مشکل ترین معاملے میں قطر کے سفارتی کردار کو زبردست الفاظ میں سراہا اور کہا کہ قطر نے جس طرح تمام معاملات کو سنبھالا، وہ اس پر انتہائی خوش اور مطمئن ہیں۔ اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے عالمی تنازعات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اب روس کو بھی یوکرین کے ساتھ ہر صورت ایک پائیدار معاہدہ کر لینا چاہئے، کیونکہ اب روس اور یوکرین دونوں ہی اندرونی طور پر کسی حتمی سمجھوتے پر پہنچنا چاہتے ہیں۔
اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ اسرائیل کا بیروت پر حالیہ حملہ انہیں بالکل پسند نہیں آیا، اور اسرائیل نے جس طرح لبنان کے نازک معاملے کو ہینڈل کیا ہے، وہ اس سے قطعی طور پر خوش نہیں ہیں کیونکہ اسرائیل کا لبنان سے متعلق تنازع ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھتا جا رہا ہے۔ انہوں نے حزب اللہ کو خطے میں مسلسل تناؤ کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ لبنان میں جاری کشیدگی کو ایک معمولی جنگ سمجھتے ہیں، جبکہ اصل تزویراتی مسئلہ ایران کا معاملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر اوباما کی ناقص ڈیل کی خامیوں کے باعث ایران جوہری طاقت بنانے کے قریب پہنچ چکا تھا، لیکن موجودہ ایران معاہدہ مشرق وسطیٰ میں بڑے اور دیرپا استحکام کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے خطے میں بڑی جنگ سے بچنے کے لیے سفارتی کوششیں ہر صورت جاری رہنی چاہئیں۔
امریکی صدر نے ایران کے اندرونی حالات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ وہاں موجود انتہا پسند عناصر کے ساتھ کوئی لین دین یا ڈیل نہیں کرتے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو مخلصانہ مشورہ دیا کہ انہیں لبنان کے معاملے میں زیادہ سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ صدر ٹرمپ نے یہ تاریخی اعتراف بھی کیا کہ امریکا کی مسلسل اور غیر مشروط حمایت کے بغیر اسرائیل کا دنیا کے نقشے پر وجود قائم رہنا ممکن نہیں تھا، اور اگر وہ صدر نہ ہوتے تو اسرائیل کا یہ مقام نہ ہوتا کیونکہ کسی اور امریکی صدر نے اسرائیل کے حق میں وہ اقدامات نہیں کیے جو انہوں نے کیے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کے نیتن یاہو کے ساتھ تعلقات اب بھی بہترین ہیں۔
اس اہم ترین موقع پر امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے صدر ٹرمپ کے خیالات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ مثبت رفتار سے کام جاری رہا تو خطے میں امن کے لیے مزید بڑی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والا یہ تاریخی معاہدہ خطے کے طویل المدتی امن و استحکام اور خود ایران کے لیے ایک بہت بڑی پیش رفت ہے، جس میں قطر نے تنازع کے دوران ثالثی اور سفارتی رابطوں کو بحال رکھنے کے لیے اپنا کلیدی اور تزویراتی کردار ادا کیا۔ امیرِ قطر نے عزم کا اظہار کیا کہ جب بھی دوست ممالک امن کے لیے مدد کا رجوع کریں گے، قطر تعاون کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہے گا کیونکہ سفارت کاری اور بامقصد مذاکرات ہی تمام عالمی تنازعات کا واحد اور پائیدار حل ہیں۔
متعلقہ عنوانات
ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ
6 July 2026
پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل
6 July 2026
صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش
6 July 2026
ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ
6 July 2026
یورپ میں شدید گرمی کی نئی لہر، متعدد ممالک میں جنگلاتی آگ، انخلا جاری
6 July 2026
مودی حکومت عالمی پانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی مرتکب ہے: عظمیٰ بخاری
6 July 2026
اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال
6 July 2026
جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید
6 July 2026