توانائی بحران برقرار، سپلائی چین کا تعطل ختم ہونے میں وقت لگے گا: آئی ایم ایف
Web Desk
16 June 2026
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مینجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی تاریخی جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے بڑے فیصلے کا باضابطہ طور پر خیرمقدم کیا ہے، تاہم انہوں نے عالمی معاشی افق پر منڈلاتے خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عالمی معیشت فی الحال مستحکم تو ہے لیکن خطرات اب بھی پوری طرح موجود ہیں۔ اپنے ایک خصوصی اسٹریٹجک بیان میں کرسٹالینا جارجیوا کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر توانائی کا سنگین بحران اب بھی برقرار ہے اور جنگ کے نتیجے میں سپلائی چین کو پہنچنے والے شدید تعطل کو مکمل طور پر ختم ہونے میں ابھی اچھا خاصا وقت لگے گا، کیونکہ بحری و ساحلی بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے وسیع نقصان کے باعث سپلائی چین کی راتوں رات اور فوری بحالی ممکن ہی نہیں۔
آئی ایم ایف کی سربراہ نے معاشی منظرنامے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کی معاشی بحالی اور ترقی کا تمام تر دارومدار اب اس بات پر ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران توانائی کے بحران کی وجہ سے عالمی منڈیوں کو پہنچنے والا جھٹکا کتنا شدید اور گہرا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت میں فی الحال کسی بڑی معاشی سست روی (کساد بازاری) کا خطرہ تو فوری طور پر نظر نہیں آتا لیکن رسد میں رکاوٹیں عالمی اقتصادی ترقی کے لیے بدستور ایک بڑا چیلنج ہیں۔ کرسٹالینا جارجیوا کے مطابق، آئی ایم ایف عالمی اقتصادی ترقی اور مختلف ممالک کی جی ڈی پی گروتھ سے متعلق اپنی نئی اور جامع پیش گوئی آئندہ 8 جولائی کو باقاعدہ طور پر جاری کرے گا، جبکہ اس سے قبل اپریل کی رپورٹ میں عالمی شرح نمو 3.1 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔
انہوں نے تیل کی مارکیٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس تاریخی جنگ بندی کے باوجود خام تیل کی عالمی قیمتیں تنازع شروع ہونے سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر بلند ہیں، جس کی وجہ سے بین الاقوامی مارکیٹ میں توانائی، کیمیائی کھادوں اور بنیادی خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافے کے خدشات مسلسل برقرار ہیں۔ آئی ایم ایف کے بیان کے مطابق، ایشیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں (بشمول پاکستان) میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں گزشتہ چند ماہ کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب افریقی ممالک کو ایندھن کی شدید قلت، بے لگام بڑھتی مہنگائی اور سخت ترین مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایم ڈی آئی ایم ایف نے مزید کہا کہ تیل برآمد کرنے والے بعض بڑے خلیجی ممالک کی اپنی معاشی نمو بھی اس غیر یقینی صورتحال سے متاثر ہو سکتی ہے جبکہ یورپ میں مہنگی توانائی صنعتی و اقتصادی سرگرمیوں پر دباؤ ڈال رہی ہے، تاہم ان تمام عالمی خطرات کے باوجود ریلیف کی بات یہ ہے کہ امریکہ اور چین جیسی بڑی سپر پاورز کی معیشتیں اب بھی مضبوط اور مستحکم رفتار سے آگے بڑھ رہی ہیں۔
متعلقہ عنوانات
ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ
6 July 2026
پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل
6 July 2026
صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش
6 July 2026
ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ
6 July 2026
یورپ میں شدید گرمی کی نئی لہر، متعدد ممالک میں جنگلاتی آگ، انخلا جاری
6 July 2026
مودی حکومت عالمی پانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی مرتکب ہے: عظمیٰ بخاری
6 July 2026
اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال
6 July 2026
جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید
6 July 2026