LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا، ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے رابطے جاری ہیں: قطر امریکی وزارتِ خارجہ کا دنیا بھر میں امیگرینٹ ویزا انٹرویوز کا عمل عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات

وکلا کی ہڑتالیں سائلین کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہیں”: وفاقی آئینی عدالت

Web Desk

3 June 2026

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے ایک تاریخی اور اہم ترین فیصلہ سناتے ہوئے ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی جانب سے دی جانے والی ہڑتال کی کالوں کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے معزز جج جسٹس عامر فاروق کا تحریر کردہ یہ تفصیلی فیصلہ باقاعدہ طور پر جاری کر دیا گیا ہے۔ عدالتِ عالیہ نے اپنے فیصلے میں واشگاف الفاظ میں لکھا ہے کہ وکلا تنظیموں کی جانب سے کی جانے والی یہ ہڑتالیں سائلین کے ‘انصاف تک رسائی’ کے بنیادی آئینی حق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ آئینی عدالت کے مطابق، ایسی ہڑتالیں عام شہریوں کو ان کی قانونی نمائندگی کے حق سے محروم کر دیتی ہیں اور اس کے نتیجے میں پہلے سے شدید دباؤ کا شکار عدالتی نظام پر مزید بوجھ پڑتا ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے فیصلے میں ہڑتالوں کے باعث نظامِ عدل کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیلات بیان کی ہیںفیصلے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ جب بھی بار کونسلز کی جانب سے ہڑتال کی کال دی جاتی ہے، تو وکلا تنظیمیں دیگر وکلا کو عدالتوں میں پیش ہونے سے زبردستی روکتی ہیں۔ وکیل کی عدم پیشی کے باعث مقدمے کی سماعت بغیر کسی پیش رفت کے اگلی تاریخ تک ملتوی کر دی جاتی ہے۔ ہمارا قانونی نظام پہلے ہی مقدمات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور عدالتوں میں کیسز کی طویل فہرستیں (پینڈنسی) موجود ہیں۔ ان حالات میں سائلین کو اپنے مقدمات کے فیصلوں کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ چاہے وکلا کی ہڑتال کا مقصد کتنا ہی نیک یا جائز کیوں نہ ہو، یہ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتا۔ شہریوں کو انصاف تک رسائی سے کسی بھی شکل یا بہانے سے محروم کرنا براہِ راست آئینِ پاکستان کی خلاف ورزی ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے یہ تفصیلی فیصلہ خیبرپختونخوا بار کونسل کے ایک متنازع اقدام کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے بعد جاری کیا، جس کا پسِ منظر درج ذیل ہے کے پی بار کونسل نے وکلا کو ایک وکیل کے قتل میں نامزد ملزم (جو کہ ایک ایس ایچ او تھا) کی قانونی نمائندگی کرنے سے روک دیا تھا۔ جب ایک متاثرہ وکیل نے اس پولیس افسر کی قانونی نمائندگی کی، تو بار کونسل نے تادیبی کارروائی کرتے ہوئے اس وکیل کا لائسنس معطل کر دیا۔ متاثرہ وکیل نے اپنے لائسنس کی معطلی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ پشاور ہائی کورٹ نے وکیل کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے ان کا لائسنس فوری بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو بالکل درست قرار دیتے ہوئے وکیل کے لائسنس بحال کرنے کے حکم کو برقرار رکھا ہے اور بار کونسلز کو آئندہ کے لیے ہڑتالوں اور وکلا کو عدالتوں میں پیش ہونے سے روکنے کے غیر قانونی اقدامات سے باز رہنے کی سخت ہدایت کی ہے۔