LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل اور ابہا کے ائیرپورٹ کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے: حوثی ملیشیا دبئی: بیوٹی ورلڈ مڈل ایسٹ 2026ء کی نمائش میں پاکستان پویلین کا افتتاح امریکا کا کرس مرفی کو العدید ایئربیس تک رسائی دینے سے انکار آبنائے ہرمز مکمل طور پر ہمارے کنٹرول میں ہے: ایرانی فوج کا پھر دعویٰ فیئر فورڈ ایئربیس سے برطانوی نوجوان گرفتار روس کا ایران کو ایک ارب ڈالر قرض فراہم کرنے کا اعلان روس کا ایران کو ایک ارب ڈالر قرض فراہم کرنے کا اعلان کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنے رواں ماہ ترکیہ کا دورہ کریں گے سویڈن: شاہی محل کے باہر پولیس کی فائرنگ سے مسلح شخص زخمی حالت میں گرفتار ایرانی وزیر داخلہ کی قطری امیر سے ملاقات، علاقائی امور پر تعمیری بات چیت صدر اور وزیراعظم کی ملاقات، ملکی سکیورٹی صورتحال، لانگ مارچ پر تبادلہ خیال روس یوکرین پر بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے، زیلنسکی کا دعویٰ لیتھوانیا میں جوہری ہتھیاروں کی ممکنہ تعیناتی پر روس جوابی اقدامات کرے گا، کریملن آبنائے ہرمز کا فیصلہ ٹرمپ کی کھوکھلی سوشل میڈیا پوسٹس نہیں کریں گی، ایرانی ڈپٹی سپیکر شامی صدر کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، خطے کی تازہ صورتحال پر گفتگو

آزاد کشمیر میں کلیئرنس آپریشن کے دوران فائرنگ، رینجرز اہلکار شہید

Web Desk

26 August 2026

سرساوہ: سرساوہ تا تراڑ کھل سڑک کی کلیئرنس آپریشن کے دوران مسلح افراد کی فائرنگ سے پاکستان رینجرز کا ایک اہلکار شہید جبکہ دوسرا شدید زخمی ہو گیا۔

تفصیلات کے مطابق علاقے میں آمد و رفت میں درپیش مشکلات اور غذائی قلت کے باعث مقامی آبادی کے پرزور مطالبے پر بند راستے کھولنے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری تھا۔ اس دوران سڑک کو عام نقل و حرکت کے لیے بحال کرنے میں مصروف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر مسلح سنئپرز نے گھات لگا کر فائرنگ کر دی۔

فائرنگ کے نتیجے میں رینجرز کے سپاہی شاہ نواز سینے پر گولی لگنے سے موقع پر ہی جامِ شہادت نوش کر گئے، جبکہ لانس نائیک بلال کاندھے پر گولی لگنے سے شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد کے لیے منتقل کر دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق شہید سپاہی شاہ نواز کا تعلق سندھ کے ضلع خیرپور سے تھا۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں پر جدید اسلحے اور بارودی مواد سے حملہ کرنا باقاعدہ منصوبہ بندی کا حصہ ہے، جبکہ ریاستی رٹ کے قیام اور عوامی تحفظ کے لیے سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں لائقِ تحسین ہیں۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملوث مسلح عناصر کے خلاف سخت اور بلاامتیاز کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔