LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
معاشی ترقی کیلئے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری ناگزیر ہے: وزیراعظم ووٹ ملے نہ ملے گگلت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا : نواز شریف پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم وفاقی حکومت نے ‘سول سرونٹس رولز 2026’ نافذ ، غیر ملکی شہریت چھپانے پر ملازمت ختم کرنے کی منظوری وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ، پولٹری فیڈ ملز پر 4 فیصد اضافی ٹیکس غیر قانونی قرار صدر(ن) لیگ نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے اپنی چھت اپنا گھر پروگرام: پنجاب میں ایک لاکھ سے زائد بے گھر خاندانوں کو رہائش مل گئی پاکستان میں گدھوں کی تعداد میں اضافہ ، اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات سامنے آگیا ارکانِ پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 70 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز امریکی حملے کے بعد ایران نے بھی عراقی سمندر کے قریب جہاز پر کروز میزائل داغ دیا امریکی شہری نے فائرنگ کرکے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خودکشی کرلی وزارتوں اور ڈویژنوں کیلئے ترقیاتی بجٹ 754 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ شانگلہ میں گھر کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق آئندہ ہفتے ایران سے معاہدہ ہوجائے گا، جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی: ٹرمپ ایرانی افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنا مشکل مگر ناممکن نہیں: رافیل گروسی

معاشی ترقی کیلئے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری ناگزیر ہے: وزیراعظم

Web Desk

2 June 2026

اسلام آباد: وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی ترقی اور معیشت کی مجموعی بہتری کے لیے شعبہ جاتی اصلاحات اور اہم پالیسی اقدامات پر ایک اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا ہے۔اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں ملوٹ اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صنعتی مصنوعات کی ملکی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ برآمدات (Exports) کو بڑھانا حکومتی ترجیحات کا بنیادی حصہ ہے، اور صنعت و تجارت سمیت معیشت کے تمام شعبہ جات میں کی جانے والی اصلاحات کا حقیقی مقصد طویل المدتی معاشی افادیت اور براہِ راست عوامی فلاح ہونا چاہیے۔ اجلاس کے دوران متعلقہ وزارتوں کے حکام کی جانب سے مختلف زیرِ غور معاشی اور صنعتی پالیسی تجاویز پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔متبادل توانائی اور جامع ‘الیکٹرک وہیکلز پالیسی’ وقت کی ضرورتوزیر اعظم نے مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں جدید اصلاحات لانے کی ہدایات جاری کیں:متبادل توانائی کا فروغ: مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو روایتی طریقوں کے بجائے متبادل اور ماحول دوست توانائی کے ذرائع سے پورا کرنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی پر بھرپور انداز میں کام جاری ہے۔الیکٹرک وہیکلز (EV) پالیسی: ملک میں توانائی کی بچت اور شہریوں کے لیے سستی ٹرانسپورٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک جامع اور مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی کی تشکیل وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔وزارتوں کا باہمی تعاون: مؤثر ترقیاتی پالیسیوں کی تشکیل اور ان کے گراؤنڈ پر نفاذ کے لیے تمام وفاقی وزارتیں باہمی تعاون، روابط اور ہم آہنگی سے کام کریں، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں شامل کرنے کے لیے تمام ماہرین کی بامعنی مشاورت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔انتظامی شفافیت: وزیر اعظم نے واضح کیا کہ تمام تر معاشی اصلاحات اور پالیسی اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی کو برقرار رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔اجلاس میں شریک وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام کی تفصیلوزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے اس اہم معاشی اجلاس میں ملک کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت اور معاشی ماہرین نے شرکت کی، جن میں درج ذیل شخصیات شامل ہیں:نامِ گرامیعہدہ / وزارتمحمد اسحاق ڈارنائب وزیر اعظممحمد اورنگزیبوفاقی وزیر خزانہاحد خان چیمہوفاقی وزیر اقتصادی امورعطاء اللہ تارڑوفاقی وزیر اطلاعاتمصدق ملکوفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلیسردار اویس لغاریوفاقی وزیر پاور ڈویژنعلی پرویز ملکوفاقی وزیر پٹرولیمہارون اختروزیر اعظم کے معاون خصوصیمیجر جنرل اسد الرحمن چیمہڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی (SIFC)اجلاس کے اختتام پر وزیر اعظم نے تمام متعلقہ اداروں کے عہدے داران کو ہدایت کی کہ وہ پیش کی گئی تجاویز کو حتمی شکل دے کر جلد از جلد عملدرآمد کی رپورٹ پیش کریں۔