وزارتوں اور ڈویژنوں کیلئے ترقیاتی بجٹ 754 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ
Web Desk
2 June 2026
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وزارتوں اور ڈویژنوں کے وفاقی ترقیاتی منصوبوں (PSDP) کے لیے ابتدائی طور پر 754 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا ہے۔
ذرائع کے مطابق، مختلف اہم وزارتوں، ڈویژنوں اور ملک کے مخصوص خطوں کے لیے بجٹ کی یہ رقم مختلف حصوں میں تقسیم کی جائے گی، جس کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں:
بجٹ دستاویزات کے تخمینے کے مطابق سب سے بڑا حصہ مواصلات اور توانائی کے شعبوں کو دیا جائے گا:
-
این ایچ اے اور پاور ڈویژن: نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) اور پاور ڈویژن کے لیے مجموعی طور پر 355 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ اس میں سے این ایچ اے کو 264 ارب روپے جبکہ پاور ڈویژن کو 91 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔
-
آبی وسائل ڈویژن: پانی کے منصوبوں کے لیے آبی وسائل ڈویژن کو آئندہ مالی سال 179 ارب روپے دینے کا تخمینہ ہے۔
صوبائی نوعیت اور مخصوص اضلاع کے ترقیاتی کاموں کے لیے 251 ارب روپے مقرر کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے:
-
صوبائی منصوبے اور انضمام شدہ اضلاع: صوبائی نوعیت کے منصوبوں پر 99 ارب روپے جبکہ خیبر پختونخوا میں انضمام شدہ اضلاع (سابقہ فاٹا) کے لیے 66 ارب روپے خرچ ہوں گے۔
-
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان: آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے ترقیاتی فنڈز کے لیے 86 ارب روپے مختص کیے جانے کا تخمینہ ہے۔
دیگر اہم محکموں اور تعلیمی شعبے کے لیے بجٹ کی تقسیم درج ذیل ہے:
-
ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC): اعلیٰ تعلیم کے لیے ایچ ای سی کو 41 ارب روپے دیے جائیں گے۔
-
ریلوے اور پلاننگ ڈویژن: ریلوے ڈویژن کو 28 ارب روپے اور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے لیے 25 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
-
داخلہ، دفاع اور اطلاعات: وزارت داخلہ کو 16 ارب روپے، ڈیفنس ڈویژن کے لیے 11 ارب روپے، جبکہ وزارت اطلاعات کو 4 ارب روپے سے زائد کی رقم ملے گی۔
دوسری جانب، وفاقی ترقیاتی بجٹ کے حجم پر حکومت، ایف بی آر اور آئی ایم ایف کے درمیان مشاورت اور اختلافات کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں:
-
وزیراعظم کی خواہش: ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف وفاقی ترقیاتی منصوبوں (PSDP) کا بجٹ مزید 200 ارب روپے بڑھانے کے شدید خواہش مند ہیں۔ انہوں نے اس اضافے کے لیے وزارت خزانہ کو بجٹ ایڈجسٹمنٹ کرنے کی بھی باقاعدہ ہدایت جاری کر دی ہے۔
-
ایف بی آر کا انکار: تاہم، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے پی ایس ڈی پی کے لیے مزید 200 ارب روپے کا اضافی ریونیو جمع کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
-
آئی ایم ایف کی شرط: عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) نے بھی اس معاملے پر اپنا موقف اپنایا ہے اور کہا ہے کہ اگر حکومت پی ایس ڈی پی کا حجم بڑھانا چاہتی ہے، تو اسے اپنے ریونیو کے ہدف کو مزید بڑھانا ہوگا۔
متعلقہ عنوانات
معاشی ترقی کیلئے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری ناگزیر ہے: وزیراعظم
2 June 2026
سرکاری وسائل کا استعمال تشویشناک ہے”: شازیہ مری کی گلگت بلتستان انتخابات میں وفاقی مداخلت کی شدید مذمت
2 June 2026
ووٹ ملے نہ ملے گگلت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا : نواز شریف
2 June 2026
قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا کل ہونے والا اہم اجلاس ناگزیر وجوہات پر ملتوی،
2 June 2026
عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
2 June 2026
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
2 June 2026
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
2 June 2026
وفاقی حکومت نے ‘سول سرونٹس رولز 2026’ نافذ ، غیر ملکی شہریت چھپانے پر ملازمت ختم کرنے کی منظوری
2 June 2026