LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا، ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے رابطے جاری ہیں: قطر امریکی وزارتِ خارجہ کا دنیا بھر میں امیگرینٹ ویزا انٹرویوز کا عمل عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات

آئندہ ہفتے ایران سے معاہدہ ہوجائے گا، جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی: ٹرمپ

Web Desk

2 June 2026

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر اہم بیان دیتے ہوئے قوی امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ ایک ہفتے کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پا جائے گا، جس کے تحت جاری جنگ بندی میں باقاعدہ توسیع کی جائے گی۔

امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس ممکنہ معاہدے کے نتیجے میں عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم ترین بحری راستے ‘آبنائے ہرمز’ (Strait of Hormuz) کو تمام تر تجارتی آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے حالیہ بیانات اور پیغامات کے تعطل پر ردِعمل دیتے ہوئے امریکی صدر نے واضح کیا:

  • رابطے ختم کرنے کی تردید: ایران نے باقاعدہ طور پر امریکا کو جنگ بندی کے پیغامات کا تبادلہ روکنے کے کسی فیصلے سے مطلع نہیں کیا ہے۔

  • بمباری کا کوئی فوری ارادہ نہیں: اگر پیغامات کے تبادلے میں کوئی تعطل یا تاخیر آ بھی جائے، تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ امریکا دوبارہ ایران پر بم گرانا شروع کر دے گا۔

  • ایرانی فیصلے سے کوئی مسئلہ نہیں: جنگ بندی کے پیغامات کا تبادلہ روکنے کے ایرانی فیصلے سے واشنگٹن کو کوئی فرق یا مسئلہ نہیں پڑے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے خلاف اپنی سخت معاشی اور عسکری حکمتِ عملی کو برقرار رکھنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس وقت تک صابر رہیں گے اور انتظار کریں گے جب تک ایران امریکی شرائط کے مطابق کسی حتمی ڈیل کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اس دوران ہم بالکل خاموش رہیں گے، لیکن ایران پر قائم کی گئی بحری ناکہ بندی (Naval Blockade) کو بدستور سختی سے جاری رکھا جائے گا۔