LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا، ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے رابطے جاری ہیں: قطر امریکی وزارتِ خارجہ کا دنیا بھر میں امیگرینٹ ویزا انٹرویوز کا عمل عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات

ایرانی افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنا مشکل مگر ناممکن نہیں: رافیل گروسی

Web Desk

2 June 2026

ویانا: عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنا ایک مشکل اور پیچیدہ عمل ضرور ہے، لیکن یہ ناممکن نہیں ہے.

الجزیرہ ٹی وی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں رافیل گروسی نے انکشاف کیا کہ اس وقت ایران کے پاس 440 کلوگرام یورینیم کا ذخیرہ موجود ہے، جسے 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا ہے.

آئی اے ای اے کے سربراہ نے افزودہ یورینیم کے اخراج اور اس سے جڑے تکنیکی چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا اس یورینیم کو بیرونِ ملک منتقل کرنے کا آپریشن آسان نہیں ہے کیونکہ یہ مواد گیس کی شکل میں ہوتا ہے. یہ انتہائی حساس ہونے کے ساتھ ساتھ آلودگی پھیلانے کی شدید صلاحیت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی نقل و حمل ایک انتہائی پیچیدہ اور کٹھن تکنیکی عمل بن جاتی ہے. رافیل گروسی نے ایک اور متبادل راستہ تجویز کرتے ہوئے کہا کہ اس افزودہ یورینیم کو کم درجہ افزودگی والی شکل (ڈاؤن گریڈ) میں تبدیل کیا جا سکتا ہے. اس عمل سے مواد کی حساسیت اور اس کے ممکنہ عسکری یا تیز رفتار استعمال کی نوعیت کم ہو جائے گی. انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت تمام امکانات پر مختلف سطحوں پر بات چیت جاری ہے اور یہی وہ اہم امور ہیں جن پر متعلقہ فریقین غور کر رہے ہیں.

مذکورہ معاملے پر عالمی جوہری ایجنسی کی پوزیشن واضح کرتے ہوئے رافیل گروسی کا کہنا تھا کہ آئی اے ای اے براہِ راست مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں ہے. تاہم، انہوں نے تصدیق کی کہ وہ اس سلسلے میں تہران (ایران) اور واشنگٹن (امریکا) دونوں کے ساتھ الگ الگ اور قریبی رابطے میں ہیں.

انہوں نے انٹرویو کے اختتام پر کہا کہ ادارے کا بنیادی کردار کسی بھی ممکنہ معاہدے کو قابلِ عمل، شفاف اور مؤثر بنانے میں تکنیکی معاونت فراہم کرنا ہے، تاکہ مستقبل میں فریقین کے درمیان کسی بھی متفقہ حل پر کامیابی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے.