LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کسی نے ہمیں دھرنے سے اٹھانے کی کوشش کی تو وہ اپنا شوق پورا کرلے: حافظ نعیم علی پرویز ملک کی او آئی سی سی آئی اور پی ایس او قیادت سے الگ الگ ملاقاتیں عوام کو جدید ڈیجیٹل مالیاتی نظام سے منسلک کرنا ترجیح ہے: شزا فاطمہ محسن نقوی کا جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن سسٹم ڈاؤن ہونے پر فوری ہدایت پاکستان چین دوستی کو ڈیٹا، ٹیکنالوجی کے نئے دور میں داخل کرنا چاہتے ہیں: مریم نواز سہیل آفریدی کی آیت نور کے گھر آمد، ملزمان کو کڑی سزا دینے کی یقین دہانی نیپال و تبت میں سیلاب سے ہلاکتیں 626 ہو گئیں، 2000 سے زیادہ افراد تاحال لاپتہ ڈی آئی جی ساؤتھ کا ڈیفنس میں خواتین کے جھگڑے کی وائرل ویڈیو پر انکوائری کا فیصلہ امریکی پابندیوں کے تسلسل سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے: ایرانی صدر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری واہ کا دورہ، پیداواری صلاحیتوں کا جائزہ لیا نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ کے اعترافی بیانات مسترد، مقدمے میں مزید تاخیر کا خدشہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہیں: رضوان سعید کراچی: ہسپتال سے نومولود بچے کے غائب ہونے کا معاملہ، ڈاکٹر کا اہم بیان سامنے آگیا امریکا نے ایران میں ان لوگوں کو مضبوط کیا جو سمجھتے ہیں ایران ایٹمی طاقت ہو، روس پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کھلنے سے متعلق امریکی دعویٰ مسترد کر دیا

نیوارک حراستی مرکز کے باہر مظاہرے، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، آنسو گیس کا استعمال

Web Desk

30 May 2026

امریکی ریاست نیو جرسی کے شہر نیوارک میں امیگریشن حراستی مرکز کے باہر احتجاجی مظاہروں کے دوران کشیدگی میں اضافہ ہو گیا، جس پر ریاستی پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کی۔

حکام کے مطابق نیوارک میں واقع ڈیلینی ہال کے باہر کئی روز سے احتجاج جاری تھا، جہاں مظاہرین اور امیگریشن حکام کے درمیان جھڑپیں بھی ہو رہی تھیں جبکہ مرکز کے اندر قید افراد کی جانب سے مبینہ طور پر بھوک ہڑتال بھی کی گئی۔

ریاستی گورنر کے مطابق صورتحال اس حد تک بگڑ گئی تھی کہ اسے غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے پولیس کو تعینات کیا گیا۔ پولیس نے احتجاجی مقام کے گرد رکاوٹیں لگا کر مرکزی راستے بند کر دیے جبکہ امیگریشن حکام کو بھی عمارت کے اندر منتقل کر دیا گیا۔

احتجاج کے دوران بعض مظاہرین نے مخصوص علاقوں میں منتقل ہونے سے انکار کیا اور دھرنا جاری رکھا۔ انسانی حقوق کے بعض کارکنوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پرامن احتجاج کرنے والوں کو دبایا جا رہا ہے، جبکہ حکام نے صورتحال کو امن و امان کے لیے خطرہ قرار دیا۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے دوران امیگریشن اہلکاروں نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے مرچوں کے اسپرے اور لاٹھیوں کا بھی استعمال کیا۔ حکام کے مطابق متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا جن پر سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کے الزامات ہیں۔

بعدازاں حکام نے بتایا کہ احتجاج کے دوران مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں، جبکہ صورتحال کے پیش نظر بعض وفاقی اداروں کے اہلکاروں کو بھی علاقے میں تعینات کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ریاستی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر حالات مزید خراب ہوئے تو قریبی ایئرپورٹ پر تعینات بعض اہلکاروں کو بھی ڈیلینی ہال کے باہر منتقل کیا جا سکتا ہے، جس سے فضائی آپریشن متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ریاستی گورنر نے کہا ہے کہ حالات کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے ریاستی پولیس کی تعیناتی ناگزیر تھی، جبکہ وفاقی حکام نے احتجاج کو امن و امان کے خلاف قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

امریکی محکمہ داخلہ کے مطابق ڈیلینی ہال ایک ہزار بستروں پر مشتمل نجی حراستی مرکز ہے، جہاں اس وقت تقریباً تین سو افراد موجود ہیں، جن کی بیرونی دنیا سے رابطے کے لیے ڈیجیٹل سہولتیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔