LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے امریکی وفد کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر گفتگو سیاسی کشیدگی سے سب کا نقصان ہوگا، تھرڈ فورس آنے سے پہلے معاملات حل کیے جائیں: بیرسٹر گوہر وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت پی ایم اسپیشل ریلیف اسکیم کا جائزہ اجلاس، فیول سبسڈی کے لیے سہولت ڈیسک قائم کرنے کی ہدایت پاکستان کو پہلے پائیدار سویرن پانڈا بانڈ کے اجرا پر 2026 اے پی اے سی کلائمیٹ بانڈز ایوارڈ سے نواز دیا گیا پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے ، طلال چودھری ایران اور امریکا مزید کشیدگی روک کر مذاکرات کی طرف واپس آئیں: چین وزیراعظم کا چھوٹے کاروبار کی معاونت کے لیے حکمت عملی بنانے کا حکم عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا کیس: سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کر لی 27 ستمبر لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں اور گرفتار نہ کرنے کا حکم چین پاکستان میں جدید طرز کے لا انفورسمنٹ سینٹر کے قیام میں تعاون کرے گا پٹرولیم لیوی کا خاتمہ چاہیے، خیرات نہیں، حافظ نعیم الرحمان اوزون تہہ کا تحفظ نئی نسل کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے، مریم نواز مکہ پر ڈرون حملے کی کوشش قابل مذمت، حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے سعودیہ کیساتھ ہیں: وزیراعظم او آئی سی کی مقدس مقامات پر حملوں کی مذمت، سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اعلان پاکستان کا بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی پابندی میں23اکتوبر تک توسیع کا اعلان

مٹاپے کیخلاف جی ایل پی-1 ادویات دماغ میں کیسے کام کرتی ہیں؟

Web Desk

26 May 2026

امریکہ کے مایہ ناز طبی تحقیقاتی ادارے ‘نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ’ (NIH) کے محققین نے وزن کم کرنے اور موٹاپے کے علاج کے لیے دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہونے والی ادویات (جنہیں طبی زبان میں جی ایل پی-1 ریسیپٹر ایگونسٹس کہا جاتا ہے) کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور انقلابی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ سائنس دانوں نے پہلی بار دماغی خلیوں (نیورونز) کے اندر ان ادویات کے کام کرنے کے اصل اور تفصیلی طریقہ کار (Mechanism) کو سمجھ لیا ہے۔

اس حیران کن طبی تحقیق میں نہ صرف یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ ادویات خلیاتی سطح پر بھوک کو کیسے کنٹرول کرتی ہیں، بلکہ اس دیرینہ معمہ کا جواب بھی مل گیا ہے کہ مختلف مریض ان دواؤں پر مختلف ردِعمل کیوں دیتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اکثر مریضوں پر ان ادویات کے اثرات کیوں کم ہونے لگتے ہیں۔

سائنس دانوں نے اس تحقیق کے لیے چوہوں کا سہارا لیا اور مٹاپے و ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج کے لیے دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے کیمیکل ‘سیماگلوٹائڈ’ (Semaglutide) کا دماغی خلیوں کے اندرونی نظام پر اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔

لیبارٹری ٹیسٹس کے دوران ماہرین نے اعصابی خلیوں کے اندر پائے جانے والے چند ایسے مخصوص سگنلز اور کیمیائی سرگرمیوں (Chemical Signaling) کی نشاندہی کی، جو بظاہر وزن کم کرنے کے اس پورے عمل میں دوا کے اصل ’پاور ہاؤس‘ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان سگنلز کا متحرک ہونا ہی جسم میں چربی پگھلانے اور بھوک مٹانے کے نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک دنیا بھر کے سائنس دان صرف اس بات سے واقف تھے کہ جی ایل پی-1 (GLP-1) ادویات دماغ کے ان حصوں کو ہٹ کرتی ہیں جو انسانی بھوک اور پیٹ بھرنے کے احساس کو کنٹرول کرتے ہیں، لیکن یہ ایک راز تھا کہ نیورونز کے اندر داخل ہونے کے بعد یہ دوا اصل میں کیا کیمیائی تبدیلیاں رونما کرتی ہے۔

تحقیق کے شریک مصنف اینڈریو لوٹسکا نے اس تاریخی دریافت پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا:

“ہمیں اب تک اس بات کی بہت کم اور محدود سمجھ تھی کہ یہ ادویات جن نیورونز کو نشانہ بناتی ہیں، اُن کے اندرونی خلیات کا اپنا نظام کیسے کام کرتا ہے۔ اب ان خلیاتی باریکیوں اور گہرائی میں جا کر ہم ان پیچیدہ سوالات کے سائنسی جواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔”

سائنس دانوں کے مطابق اس نئی دریافت کی بدولت مستقبل میں نہ صرف موجودہ جی ایل پی-1 ادویات کے اثرات اور افادیت کو مزید کئی گنا بڑھایا جا سکے گا، بلکہ فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے لیے موٹاپے کے خلاف پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ، تیز رفتار اور مؤثر ترین نئی ادویات تیار کرنے کا راستہ بھی صاف ہو گیا ہے۔