مٹاپے کیخلاف جی ایل پی-1 ادویات دماغ میں کیسے کام کرتی ہیں؟
Web Desk
26 May 2026
امریکہ کے مایہ ناز طبی تحقیقاتی ادارے ‘نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ’ (NIH) کے محققین نے وزن کم کرنے اور موٹاپے کے علاج کے لیے دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہونے والی ادویات (جنہیں طبی زبان میں جی ایل پی-1 ریسیپٹر ایگونسٹس کہا جاتا ہے) کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور انقلابی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ سائنس دانوں نے پہلی بار دماغی خلیوں (نیورونز) کے اندر ان ادویات کے کام کرنے کے اصل اور تفصیلی طریقہ کار (Mechanism) کو سمجھ لیا ہے۔
اس حیران کن طبی تحقیق میں نہ صرف یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ ادویات خلیاتی سطح پر بھوک کو کیسے کنٹرول کرتی ہیں، بلکہ اس دیرینہ معمہ کا جواب بھی مل گیا ہے کہ مختلف مریض ان دواؤں پر مختلف ردِعمل کیوں دیتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اکثر مریضوں پر ان ادویات کے اثرات کیوں کم ہونے لگتے ہیں۔
سائنس دانوں نے اس تحقیق کے لیے چوہوں کا سہارا لیا اور مٹاپے و ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج کے لیے دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے کیمیکل ‘سیماگلوٹائڈ’ (Semaglutide) کا دماغی خلیوں کے اندرونی نظام پر اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔
لیبارٹری ٹیسٹس کے دوران ماہرین نے اعصابی خلیوں کے اندر پائے جانے والے چند ایسے مخصوص سگنلز اور کیمیائی سرگرمیوں (Chemical Signaling) کی نشاندہی کی، جو بظاہر وزن کم کرنے کے اس پورے عمل میں دوا کے اصل ’پاور ہاؤس‘ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان سگنلز کا متحرک ہونا ہی جسم میں چربی پگھلانے اور بھوک مٹانے کے نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک دنیا بھر کے سائنس دان صرف اس بات سے واقف تھے کہ جی ایل پی-1 (GLP-1) ادویات دماغ کے ان حصوں کو ہٹ کرتی ہیں جو انسانی بھوک اور پیٹ بھرنے کے احساس کو کنٹرول کرتے ہیں، لیکن یہ ایک راز تھا کہ نیورونز کے اندر داخل ہونے کے بعد یہ دوا اصل میں کیا کیمیائی تبدیلیاں رونما کرتی ہے۔
تحقیق کے شریک مصنف اینڈریو لوٹسکا نے اس تاریخی دریافت پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا:
“ہمیں اب تک اس بات کی بہت کم اور محدود سمجھ تھی کہ یہ ادویات جن نیورونز کو نشانہ بناتی ہیں، اُن کے اندرونی خلیات کا اپنا نظام کیسے کام کرتا ہے۔ اب ان خلیاتی باریکیوں اور گہرائی میں جا کر ہم ان پیچیدہ سوالات کے سائنسی جواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔”
سائنس دانوں کے مطابق اس نئی دریافت کی بدولت مستقبل میں نہ صرف موجودہ جی ایل پی-1 ادویات کے اثرات اور افادیت کو مزید کئی گنا بڑھایا جا سکے گا، بلکہ فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے لیے موٹاپے کے خلاف پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ، تیز رفتار اور مؤثر ترین نئی ادویات تیار کرنے کا راستہ بھی صاف ہو گیا ہے۔
متعلقہ عنوانات
وزیراعظم کی 3 ماہ میں پمز ہسپتال میں فائر سیفٹی سمیت نظام بہتر کرنے کی ہدایت
16 September 2026
ملک بھر میں 20 ستمبر کو ایم ڈی کیٹ کا انعقاد: 1 لاکھ 38 ہزار سے زائد طلبہ امتحان دیں گے، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال
16 September 2026
حالتِ سکون میں پاؤں کی ہڈیوں میں درد دل کی خطرناک بیماری کی علامت، ماہرین
16 September 2026
سانحہ پمز؛ 14 نومولود کیوں نہیں بچائے جا سکے؟ انکوائری رپورٹ میں انکشافات
15 September 2026
خواتین میں مصنوعی پلکوں کا استعمال، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
15 September 2026
وزن کم کرنے والی ادویات کا خودکشی کے خیالات سے تعلق کا انکشاف
15 September 2026
خیبرپختونخوا: چکن گونیا کے کیسز میں اضافہ، نوشہرہ کے متعدد گاؤں متاثر
15 September 2026
ایڈز کے خاتمے کیلئے علاج کے ساتھ مؤثر آگاہی پر توجہ دینا ہو گی: مصطفیٰ کمال
14 September 2026