LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
باقر قالیباف کا ایران پر نئی امریکی پابندیاں مسترد کرنے پر چین سے اظہارِ تشکر یوکرین جنگ ہار رہا، محاذ کی صورتحال واضح ثبوت ہے: کریملن یوکرینی حملے میں مسافر بس نشانہ بن گئی، لڑکی سمیت 9 روسی ہلاک، 6 زخمی آزاد کشمیر حکومت سازی، بیرسٹر افتخار گیلانی کا نام وزیراعظم کیلئے فائنل آبنائے ہرمز مذاکرات کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی سانحہ پمز پر حکمران طبقہ زیادہ دیر نہیں چھپ سکتا: حافظ نعیم الرحمان امریکا، ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے رابطے جاری ہیں: قطر پمز آتشزدگی کی تحقیقات کے لئے اعلیٰ سطح انکوائری کمیٹی قائم سانحہ پمز: بچوں کی اموات آکسیجن بند ہونے اور جھلسنے سے ہوئی، ابتدائی رپورٹ ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی مریم نواز کی سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی سسٹم کی تنصیب یقینی بنانے کی ہدایت ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ سفارتی معاہدے کے امکانات مسترد کردیے آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے انتخاب کیلئے شیڈول جاری

حکومت کے پہلے 25 ماہ میں وفاقی قرضوں میں 15 ہزار 714 ارب روپے کا ہوشربا اضافہ

Web Desk

18 May 2026

پاکستان کے معاشی افق سے ایک تشویشناک اور بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی جاری کردہ تازہ ترین اور باضابطہ دستاویزات کے مطابق، موجودہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی حکومت کے ابتدائی 25 ماہ کے مختصر عرصے کے دوران ملک کے مجموعی قرضوں کے حجم میں 15 ہزار 714 ارب روپے کا ایک بہت بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وفاقی حکومت کے قرضوں میں یہ تیز ترین اضافہ مارچ 2024ء سے لے کر مارچ 2026ء کے درمیانی عرصے (25 ماہ) میں ہوا ہے۔مرکزی بینک کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزی تفصیلات کے مطابق، حکومت کی جانب سے ملکی اخراجات اور بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک سے بھاری قرضے لیے گئے:مارچ 2024ء سے مارچ 2026ء کے دوران وفاقی حکومت کے مقامی قرضوں کے حجم میں سب سے بڑا اضافہ دیکھا گیا، جو 14 ہزار 891 ارب روپے تک جا پہنچا۔ اسی 25 ماہ کے تقابلی جائزے کے دوران وفاقی حکومت کے بیرونی یا غیر ملکی قرضوں کے کھاتے میں 824 ارب روپے کا مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی دستاویزات میں واضح کیا گیا ہے کہ اس پچیس ماہ کے دوران ہونے والے مجموعی اضافے (15 ہزار 714 ارب روپے) کے بعد اب وفاقی حکومت کا کُل واجب الادا قرضہ مارچ 2026ء کے اختتام تک بڑھ کر 80 ہزار 524 ارب روپے کی ریکارڈ ترین سطح کو چھو چکا ہے۔ معاشی ماہرین نے قرضوں کی اس رفتار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت اور پائیدار ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا ہے، جس کے باعث آنے والے بجٹ میں سود کی ادائیگیوں کا بوجھ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔