LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
تیل کی عالمی قیمتیں جلد تیزی سے نیچے آجائیں گی، امریکی وزیرخزانہ بھارتی ریاست اترپردیشن میں بارش اورطوفان سے تباہی، 100سے زائد افرادہلاک امریکی سینیٹ، جنگ کے معاملے پر ٹرمپ کے اختیارات محدودکرنے کی قراردادایک ووٹ سے ناکام سپریم جوڈیشل کونسل، اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف شکایات نمٹادی گئیں وزیراعظم کی زیرِ صدارت ہنگامی اجلاس؛ ‘نیشنل پاپولیشن کونسل’ کے قیام کا فیصلہ، شہباز شریف خود سربراہی کریں گے آرمی راکٹ فورس کا مقامی تیار کردہ فتح 4 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ ایران امریکہ ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں پاکستان مسلسل فعال ہے: دفتر خارجہ پاک افواج نے دشمن کو عبرتناک سبق سکھایا، وزیراعظم شہباز شریف ڈی جی آئی ایس پی آر کی شفاء تعمیر ملت یونیورسٹی میں خصوصی نشست وزارتِ خزانہ کی مالیاتی رپورٹ؛ 9 ماہ میں بجٹ خسارہ 856 ارب روپے، دفاع پر 1690 ارب خرچ سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ؛ سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ خان کی 24 سال پرانی سزا کالعدم، بریت بحال چینی صدر کے ساتھ گفتگو بہت اچھی رہی: ٹرمپ گلگت بلتستان انتخابات 2026 کیلئے امیدواروں کی حتمی فہرست جاری پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز چینی صدر شی کا ٹرمپ کو تائیوان تنازع پر انتباہ، حریف کے بجائے شراکت دار بننے کا مشورہ

وزیراعظم کی زیرِ صدارت ہنگامی اجلاس؛ ‘نیشنل پاپولیشن کونسل’ کے قیام کا فیصلہ، شہباز شریف خود سربراہی کریں گے

Web Desk

14 May 2026

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آبادی کی شرحِ نمو کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک مؤثر اور مربوط قومی حکمت عملی تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی۔ وزیراعظم نے اس ضمن میں “نیشنل پاپولیشن کونسل” قائم کرنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے، جس کی سربراہی وہ خود کریں گے جبکہ کونسل میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد کشمیر اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان شامل ہوں گے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ وسائل اور آبادی میں توازن ہی پائیدار ترقی کی ضمانت ہے، کیونکہ تیزی سے بڑھتی آبادی قومی وسائل پر دباؤ ڈال رہی ہے جو ملک کی مجموعی ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان میں آبادی کی شرحِ نمو 2.55 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو کہ ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم نے “ہول آف دی گورنمنٹ اپروچ” اپنانے پر زور دیا اور ہدایت کی کہ عوامی آگاہی مہم میں علمائے کرام اور کمیونٹی رہنماؤں کو فعال طور پر شامل کیا جائے۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ تمام ہیلتھ سینٹرز پر خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات فراہم کی جائیں گی، سماجی تحفظ کے پروگراموں کو فیملی پلاننگ سے جوڑا جائے گا اور خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنایا جائے گا تاکہ آبادی پر قابو پانے کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، مصدق ملک، عطاء اللہ تارڑ، سید مصطفیٰ کمال، وزیرِ مملکت ملک مختار احمد بھرتھ اور دیگر اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت آگاہی مہم، صحت و تعلیم کی سہولیات میں بہتری اور متوازن ترقی کے ذریعے آبادی کی بڑھتی ہوئی رفتار کو لگام دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔