LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ترک مسلح افواج کے یوم فتح کی 104ویں سالگرہ، جی ایچ کیو راولپنڈی میں تقریب وزیراعظم کی ایرانی صدر سے ملاقات، تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذالعمل ہے: عالمی ثالثی عدالت نیتن یاہو نے امریکا کو ایران کیخلاف جنگ میں دھکیلا: عباس عراقچی پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کا اتحاد بین الاقوامی قانون پر مبنی ہے: ترک وزیر خارجہ ایرانی حملے کی مذمت، یو اے ای کا جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان رات کے اوقات میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر عوام سے معذرت خواہ ہیں: اویس لغاری قائمہ کمیٹی کا بیوروکریسی کی ناکامی پر شدید تشویش کا اظہار، سی ڈی اے اور ڈی جی ہیلتھ کی کارکردگی پر برہمی سندھ کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں فائر الارم اور واٹر سپرنکلرز نہ ہونے کا انکشاف خلع کے معاملے میں حق مہر کی واپسی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی: توہین عدالت درخواست کی جلد سماعت کی استدعا پھر مسترد معیشت کو بیرونی امداد سے تجارت و سرمایہ کاری کی جانب لے جا رہے ہیں: وزیر خزانہ جنگ نہیں چاہتے، جارحیت پر خاموش بھی نہیں بیٹھیں گے: ایرانی صدر پاکستان کا تیل کا درآمدی بل جولائی میں ساڑھے 3 کھرب روپے تک پہنچ گیا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد سپر ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی

وزیراعظم کی زیرِ صدارت ہنگامی اجلاس؛ ‘نیشنل پاپولیشن کونسل’ کے قیام کا فیصلہ، شہباز شریف خود سربراہی کریں گے

Web Desk

14 May 2026

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آبادی کی شرحِ نمو کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک مؤثر اور مربوط قومی حکمت عملی تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی۔ وزیراعظم نے اس ضمن میں “نیشنل پاپولیشن کونسل” قائم کرنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے، جس کی سربراہی وہ خود کریں گے جبکہ کونسل میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد کشمیر اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان شامل ہوں گے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ وسائل اور آبادی میں توازن ہی پائیدار ترقی کی ضمانت ہے، کیونکہ تیزی سے بڑھتی آبادی قومی وسائل پر دباؤ ڈال رہی ہے جو ملک کی مجموعی ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان میں آبادی کی شرحِ نمو 2.55 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو کہ ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم نے “ہول آف دی گورنمنٹ اپروچ” اپنانے پر زور دیا اور ہدایت کی کہ عوامی آگاہی مہم میں علمائے کرام اور کمیونٹی رہنماؤں کو فعال طور پر شامل کیا جائے۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ تمام ہیلتھ سینٹرز پر خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات فراہم کی جائیں گی، سماجی تحفظ کے پروگراموں کو فیملی پلاننگ سے جوڑا جائے گا اور خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنایا جائے گا تاکہ آبادی پر قابو پانے کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، مصدق ملک، عطاء اللہ تارڑ، سید مصطفیٰ کمال، وزیرِ مملکت ملک مختار احمد بھرتھ اور دیگر اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت آگاہی مہم، صحت و تعلیم کی سہولیات میں بہتری اور متوازن ترقی کے ذریعے آبادی کی بڑھتی ہوئی رفتار کو لگام دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔