LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کی زیرِ صدارت ہنگامی اجلاس؛ ‘نیشنل پاپولیشن کونسل’ کے قیام کا فیصلہ، شہباز شریف خود سربراہی کریں گے آرمی راکٹ فورس کا مقامی تیار کردہ فتح 4 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ ایران امریکہ ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں پاکستان مسلسل فعال ہے: دفتر خارجہ پاک افواج نے دشمن کو عبرتناک سبق سکھایا، وزیراعظم شہباز شریف ڈی جی آئی ایس پی آر کی شفاء تعمیر ملت یونیورسٹی میں خصوصی نشست وزارتِ خزانہ کی مالیاتی رپورٹ؛ 9 ماہ میں بجٹ خسارہ 856 ارب روپے، دفاع پر 1690 ارب خرچ سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ؛ سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ خان کی 24 سال پرانی سزا کالعدم، بریت بحال چینی صدر کے ساتھ گفتگو بہت اچھی رہی: ٹرمپ گلگت بلتستان انتخابات 2026 کیلئے امیدواروں کی حتمی فہرست جاری پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز چینی صدر شی کا ٹرمپ کو تائیوان تنازع پر انتباہ، حریف کے بجائے شراکت دار بننے کا مشورہ لبنان میں نام نہاد جنگ بندی کے باوجود 23 بچے شہید، 93 زخمی امریکا میں غیر ملکی طلبہ کے ملازمت پروگرام میں 10 ہزار سے زائد مشتبہ فراڈ کیسز سامنے آگئے امریکا میں پاکستانی چاول کی برآمدات بڑھانے کیلئے اہم پیش رفت، برآمد کنندگان کے وفد کی بڑی کمپنیوں سے ملاقاتیں پنجاب، مزدوروں میں مفت فلیٹس تقسیم، وزیراعلیٰ مریم نوازکا بے زمین افرادکوزمین دینے کا بھی اعلان

وزارتِ خزانہ کی مالیاتی رپورٹ؛ 9 ماہ میں بجٹ خسارہ 856 ارب روپے، دفاع پر 1690 ارب خرچ

Web Desk

14 May 2026

وزارتِ خزانہ نے رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) کی مالیاتی آپریشنز رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق ملکی معیشت کو 856 ارب روپے کے بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جولائی سے دسمبر تک حکومت 541 ارب روپے کے بجٹ سرپلس میں تھی، تاہم تیسری سہ ماہی کے دوران اخراجات بڑھنے سے یہ توازن خسارے میں تبدیل ہو گیا۔

دستاویزات کے مطابق، وفاق کی مجموعی آمدن 14,799 ارب روپے رہی جبکہ کل اخراجات 15,665 ارب روپے تک جا پہنچے۔ مالی سال کے ان نو ماہ کے دوران حکومتی خزانے پر سب سے بڑا بوجھ سود کی ادائیگیوں کا رہا، جس پر 4,947 ارب روپے خرچ کیے گئے، جبکہ دفاعی اخراجات کے لیے 1,690 ارب روپے مختص کیے گئے۔

مثبت پہلو یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق پرائمری بیلنس سرپلس 4,091 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، جو کہ جی ڈی پی کا 3.2 فیصد بنتا ہے۔ حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے تحت سالانہ پرائمری بیلنس سرپلس جی ڈی پی کے 2.4 فیصد تک رکھنا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ایف بی آر کے ٹیکس محصولات جی ڈی پی کے 7.8 فیصد تک محدود رہے، جبکہ مجموعی آمدن جی ڈی پی کا 11.4 فیصد رہی۔ قومی مالیاتی ایوارڈ (NFC) کے تحت صوبوں کو مجموعی طور پر 5,630 ارب روپے منتقل کیے گئے، جس میں پنجاب کو 2,782 ارب، سندھ کو 1,400 ارب، خیبر پختونخوا کو 911 ارب اور بلوچستان کو 535 ارب روپے جاری کیے گئے۔