وزارتِ خزانہ کی مالیاتی رپورٹ؛ 9 ماہ میں بجٹ خسارہ 856 ارب روپے، دفاع پر 1690 ارب خرچ
Web Desk
14 May 2026
وزارتِ خزانہ نے رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) کی مالیاتی آپریشنز رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق ملکی معیشت کو 856 ارب روپے کے بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جولائی سے دسمبر تک حکومت 541 ارب روپے کے بجٹ سرپلس میں تھی، تاہم تیسری سہ ماہی کے دوران اخراجات بڑھنے سے یہ توازن خسارے میں تبدیل ہو گیا۔
دستاویزات کے مطابق، وفاق کی مجموعی آمدن 14,799 ارب روپے رہی جبکہ کل اخراجات 15,665 ارب روپے تک جا پہنچے۔ مالی سال کے ان نو ماہ کے دوران حکومتی خزانے پر سب سے بڑا بوجھ سود کی ادائیگیوں کا رہا، جس پر 4,947 ارب روپے خرچ کیے گئے، جبکہ دفاعی اخراجات کے لیے 1,690 ارب روپے مختص کیے گئے۔
مثبت پہلو یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق پرائمری بیلنس سرپلس 4,091 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، جو کہ جی ڈی پی کا 3.2 فیصد بنتا ہے۔ حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے تحت سالانہ پرائمری بیلنس سرپلس جی ڈی پی کے 2.4 فیصد تک رکھنا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ایف بی آر کے ٹیکس محصولات جی ڈی پی کے 7.8 فیصد تک محدود رہے، جبکہ مجموعی آمدن جی ڈی پی کا 11.4 فیصد رہی۔ قومی مالیاتی ایوارڈ (NFC) کے تحت صوبوں کو مجموعی طور پر 5,630 ارب روپے منتقل کیے گئے، جس میں پنجاب کو 2,782 ارب، سندھ کو 1,400 ارب، خیبر پختونخوا کو 911 ارب اور بلوچستان کو 535 ارب روپے جاری کیے گئے۔
متعلقہ عنوانات
بھارت سندھ طاس معاہدہ بحال کرے، پانی کو بطور ہتھیار بنانا قوانین کی خلاف ورزی ہے: اسحاق ڈار
9 July 2026
سونے کی قیمتوں میں زبردست اچھال: کراچی میں فی تولہ سونا 3600 روپے مہنگا، نیا ریکارڈ قائم
9 July 2026
ظہران ممدانی کا ارجنٹینا و مصر کے میچ میں متنازع فیصلوں پر ردِعمل
9 July 2026
ستھرا پنجاب پراجیکٹ: مالی بد عنوانی اور ورکرز کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی متعدد شکایات
9 July 2026
لاہور اور کراچی میں امریکی قونصل خانے بحال، ویزا سروسز کا آغاز
9 July 2026
یورپی یونین پاکستان کا مضبوط تجارتی شراکت دار ہے: اسحاق ڈار
9 July 2026
بہتر کارکردگی سے میری ٹائم سیکٹر میں پاکستان کا درجہ 30 فیصد بلند ہوا: افتخار احمد راؤ
9 July 2026
وزیراعظم سے کروشین وزیر خارجہ کی ملاقات، باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق
9 July 2026