LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی آسان بنائی جائے؛ وزیرِ اعظم معیشت مضبوط استحکام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، جی ڈی پی 3.7 فیصد ریکارڈ؛ وزیرِ خزانہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان کے باعث ریکارڈ ٹوٹنے کا سلسلہ برقرار اقوام متحدہ کا ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ زیارت میں دہشت گردوں کا پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید یو اے ای میں ‘ویزا آن ارائیول’ کی شرائط تبدیل، کیا اب آپ اہل ہیں؟ انسانی سمگلنگ کیخلاف 59 ممالک میں عالمی کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد ملزم گرفتار اسرائیل کا امریکا سے ترکیہ کو ایف 35 جنگی طیارے اور پرزے فروخت نہ کرنے کا مطالبہ دہشتگردی کا مقابلہ جاری، ریاست کی رٹ ہر صورت قائم ہوگی: سرفراز بگٹی این ڈی ایم اے کا دریاؤں میں طغیانی اور مقامی سیلاب کا الرٹ جاری امریکہ میں شدید بارشوں کی تباہ کاری، نیو جرسی میں ہول سیل اسٹور کی چھت گر گئی، نیویارک سمیت کئی علاقوں میں طوفانی سیلاب کی وارننگ نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش

لبنان میں نام نہاد جنگ بندی کے باوجود 23 بچے شہید، 93 زخمی

Web Desk

14 May 2026

لبنان میں نام نہاد جنگ بندی کے اعلان کے باوجود انسانی المیہ شدت اختیار کر رہا ہے، جہاں معصوم بچوں پر حملوں کی لہر میں تیزی آگئی ہے۔ لبنان کی وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ جنگ بندی کے آغاز سے اب تک کم از کم 23 بچے اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ 93 سے زائد بچے شدید زخمی ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ زمینی حقائق جنگ بندی کے دعووں کے برعکس انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کر چکے ہیں۔

عالمی ادارے یونیسیف (UNICEF) نے اپنی حالیہ پریس ریلیز میں انتہائی تشویشناک انکشاف کیا ہے کہ 2 مارچ سے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپوں میں دوبارہ تیزی آنے کے بعد سے اب تک جاں بحق ہونے والے بچوں کی مجموعی تعداد 200 تک پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 806 بچے زخمی ہو چکے ہیں، جن میں سے اکثر کی حالت تشویشناک ہے۔ یونیسیف نے عالمی برادری سے بچوں کے تحفظ اور فوری انسانی امداد کی اپیل کی ہے تاکہ بڑھتے ہوئے جانی نقصان کو روکا جا سکے۔