امریکا میں غیر ملکی طلبہ کے ملازمت پروگرام میں 10 ہزار سے زائد مشتبہ فراڈ کیسز سامنے آگئے
Web Desk
13 May 2026
امریکی امیگریشن حکام نے انکشاف کیا ہے کہ غیر ملکی طلبہ کو تعلیم مکمل کرنے کے بعد امریکا میں عارضی ملازمت کی اجازت دینے والے پروگرام میں دس ہزار سے زائد مشتبہ فراڈ کیسز سامنے آئے ہیں۔ امریکی امیگریشن و کسٹمز انفورسمنٹ کے قائم مقام ڈائریکٹر ٹوڈ لائنز کے مطابق تحقیقات کے دوران متعدد بے ضابطگیوں اور جعلی کمپنیوں کے نیٹ ورک کا سراغ ملا ہے۔
حکام کے مطابق یہ پروگرام غیر ملکی طلبہ کو گریجویشن کے بعد امریکا میں بارہ سے چوبیس ماہ تک کام کرنے کی اجازت دیتا ہے، جبکہ بعض طلبہ بعد ازاں ملازمت کی بنیاد پر ورک ویزا بھی حاصل کر لیتے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران ایسے معاملات سامنے آئے جہاں طلبہ کی نگرانی امریکا کے بجائے بھارت میں موجود افراد کر رہے تھے، جو پروگرام کی شرائط کی خلاف ورزی ہے۔
تحقیقات میں یہ بھی الزام سامنے آیا کہ بعض جعلی کمپنیاں مالی دھوکا دہی اور غیر قانونی طریقوں کے ذریعے غیر ملکی گریجویٹس کو امریکا میں قیام کا راستہ فراہم کر رہی تھیں۔ امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
امریکا میں سخت امیگریشن پالیسی کے حامی حلقے طویل عرصے سے اس پروگرام پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ بعض کمپنیاں اس پروگرام کو استعمال کرتے ہوئے امریکی گریجویٹس کے بجائے کم خرچ غیر ملکی ملازمین کو ترجیح دیتی ہیں۔
متعلقہ عنوانات
دادو کے کچے علاقے میں دو گروہوں میں فائرنگ کا تبادلہ، 8 افراد ہلاک
30 August 2026
کال سینٹر کے ذریعے غیر اخلاقی مواد کی فروخت: ایف آئی اے نے مزید 20 چینی شہریوں کو پاکستان بدر کر دیا
30 August 2026
پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ مشترکہ سلامتی و اجتماعی دفاع کیلئے متحد ہیں: وزیراعظم
30 August 2026
وزیراعظم آزاد کشمیر کا انٹرنیٹ اور داخلی و خارجی راستے بحال کرنے کا اعلان
30 August 2026
امریکا کے وعدے پورے ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی: ایران
30 August 2026
چین کی معروف کمپنی کا پنجاب کے آئی ٹی سیکٹر میں اظہار دلچسپی
30 August 2026
نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 734 ہو گئی، 2,498 افراد لاپتہ
30 August 2026
شمالی کوریا کی فوجی کمان میں بڑی تبدیلی، وزیرِ دفاع سمیت کئی عہدیدار برطرف
30 August 2026