LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دادو کے کچے علاقے میں دو گروہوں میں فائرنگ کا تبادلہ، 8 افراد ہلاک کال سینٹر کے ذریعے غیر اخلاقی مواد کی فروخت: ایف آئی اے نے مزید 20 چینی شہریوں کو پاکستان بدر کر دیا پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ مشترکہ سلامتی و اجتماعی دفاع کیلئے متحد ہیں: وزیراعظم وزیراعظم آزاد کشمیر کا انٹرنیٹ اور داخلی و خارجی راستے بحال کرنے کا اعلان امریکا کے وعدے پورے ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی: ایران چین کی معروف کمپنی کا پنجاب کے آئی ٹی سیکٹر میں اظہار دلچسپی نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 734 ہو گئی، 2,498 افراد لاپتہ شمالی کوریا کی فوجی کمان میں بڑی تبدیلی، وزیرِ دفاع سمیت کئی عہدیدار برطرف پاکستان اور ازبکستان کا اقتصادی روابط مزید مضبوط بنانے پر اتفاق اسلام آباد یادداشت پر عملدرآمد سے مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں: ایرانی صدر جماعت اسلامی کے دھرنوں کے 2 ہفتے مکمل، آج راولپنڈی میں تاریخی جلسے کا اعلان بانی پی ٹی آئی کی بہن بتا چکی عمران خان بالکل فٹ ہیں، وزیر دفاع پمز سانحہ: بچوں کو بچانے کی کوششیں ثابت، 9 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری امریکا میڈیا کے ذریعے توانائی مارکیٹ میں ہیرا پھیری کر رہا ہے، عباس عراقچی کیف کے قریب روسی ڈرون حملہ، گولہ بارود ڈپو میں دھماکہ، 37 افراد ہلاک

امریکا میں غیر ملکی طلبہ کے ملازمت پروگرام میں 10 ہزار سے زائد مشتبہ فراڈ کیسز سامنے آگئے

Web Desk

13 May 2026

امریکی امیگریشن حکام نے انکشاف کیا ہے کہ غیر ملکی طلبہ کو تعلیم مکمل کرنے کے بعد امریکا میں عارضی ملازمت کی اجازت دینے والے پروگرام میں دس ہزار سے زائد مشتبہ فراڈ کیسز سامنے آئے ہیں۔ امریکی امیگریشن و کسٹمز انفورسمنٹ کے قائم مقام ڈائریکٹر ٹوڈ لائنز کے مطابق تحقیقات کے دوران متعدد بے ضابطگیوں اور جعلی کمپنیوں کے نیٹ ورک کا سراغ ملا ہے۔

حکام کے مطابق یہ پروگرام غیر ملکی طلبہ کو گریجویشن کے بعد امریکا میں بارہ سے چوبیس ماہ تک کام کرنے کی اجازت دیتا ہے، جبکہ بعض طلبہ بعد ازاں ملازمت کی بنیاد پر ورک ویزا بھی حاصل کر لیتے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران ایسے معاملات سامنے آئے جہاں طلبہ کی نگرانی امریکا کے بجائے بھارت میں موجود افراد کر رہے تھے، جو پروگرام کی شرائط کی خلاف ورزی ہے۔

تحقیقات میں یہ بھی الزام سامنے آیا کہ بعض جعلی کمپنیاں مالی دھوکا دہی اور غیر قانونی طریقوں کے ذریعے غیر ملکی گریجویٹس کو امریکا میں قیام کا راستہ فراہم کر رہی تھیں۔ امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

امریکا میں سخت امیگریشن پالیسی کے حامی حلقے طویل عرصے سے اس پروگرام پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ بعض کمپنیاں اس پروگرام کو استعمال کرتے ہوئے امریکی گریجویٹس کے بجائے کم خرچ غیر ملکی ملازمین کو ترجیح دیتی ہیں۔