LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ترک مسلح افواج کے یوم فتح کی 104ویں سالگرہ، جی ایچ کیو راولپنڈی میں تقریب وزیراعظم کی ایرانی صدر سے ملاقات، تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذالعمل ہے: عالمی ثالثی عدالت نیتن یاہو نے امریکا کو ایران کیخلاف جنگ میں دھکیلا: عباس عراقچی پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کا اتحاد بین الاقوامی قانون پر مبنی ہے: ترک وزیر خارجہ ایرانی حملے کی مذمت، یو اے ای کا جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان رات کے اوقات میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر عوام سے معذرت خواہ ہیں: اویس لغاری قائمہ کمیٹی کا بیوروکریسی کی ناکامی پر شدید تشویش کا اظہار، سی ڈی اے اور ڈی جی ہیلتھ کی کارکردگی پر برہمی سندھ کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں فائر الارم اور واٹر سپرنکلرز نہ ہونے کا انکشاف خلع کے معاملے میں حق مہر کی واپسی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی: توہین عدالت درخواست کی جلد سماعت کی استدعا پھر مسترد معیشت کو بیرونی امداد سے تجارت و سرمایہ کاری کی جانب لے جا رہے ہیں: وزیر خزانہ جنگ نہیں چاہتے، جارحیت پر خاموش بھی نہیں بیٹھیں گے: ایرانی صدر پاکستان کا تیل کا درآمدی بل جولائی میں ساڑھے 3 کھرب روپے تک پہنچ گیا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد سپر ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی

امریکا میں غیر ملکی طلبہ کے ملازمت پروگرام میں 10 ہزار سے زائد مشتبہ فراڈ کیسز سامنے آگئے

Web Desk

13 May 2026

امریکی امیگریشن حکام نے انکشاف کیا ہے کہ غیر ملکی طلبہ کو تعلیم مکمل کرنے کے بعد امریکا میں عارضی ملازمت کی اجازت دینے والے پروگرام میں دس ہزار سے زائد مشتبہ فراڈ کیسز سامنے آئے ہیں۔ امریکی امیگریشن و کسٹمز انفورسمنٹ کے قائم مقام ڈائریکٹر ٹوڈ لائنز کے مطابق تحقیقات کے دوران متعدد بے ضابطگیوں اور جعلی کمپنیوں کے نیٹ ورک کا سراغ ملا ہے۔

حکام کے مطابق یہ پروگرام غیر ملکی طلبہ کو گریجویشن کے بعد امریکا میں بارہ سے چوبیس ماہ تک کام کرنے کی اجازت دیتا ہے، جبکہ بعض طلبہ بعد ازاں ملازمت کی بنیاد پر ورک ویزا بھی حاصل کر لیتے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران ایسے معاملات سامنے آئے جہاں طلبہ کی نگرانی امریکا کے بجائے بھارت میں موجود افراد کر رہے تھے، جو پروگرام کی شرائط کی خلاف ورزی ہے۔

تحقیقات میں یہ بھی الزام سامنے آیا کہ بعض جعلی کمپنیاں مالی دھوکا دہی اور غیر قانونی طریقوں کے ذریعے غیر ملکی گریجویٹس کو امریکا میں قیام کا راستہ فراہم کر رہی تھیں۔ امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

امریکا میں سخت امیگریشن پالیسی کے حامی حلقے طویل عرصے سے اس پروگرام پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ بعض کمپنیاں اس پروگرام کو استعمال کرتے ہوئے امریکی گریجویٹس کے بجائے کم خرچ غیر ملکی ملازمین کو ترجیح دیتی ہیں۔