LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بھارت سندھ طاس معاہدہ بحال کرے، پانی کو بطور ہتھیار بنانا قوانین کی خلاف ورزی ہے: اسحاق ڈار ظہران ممدانی کا ارجنٹینا و مصر کے میچ میں متنازع فیصلوں پر ردِعمل ستھرا پنجاب پراجیکٹ: مالی بد عنوانی اور ورکرز کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی متعدد شکایات لاہور اور کراچی میں امریکی قونصل خانے بحال، ویزا سروسز کا آغاز یورپی یونین پاکستان کا مضبوط تجارتی شراکت دار ہے: اسحاق ڈار بہتر کارکردگی سے میری ٹائم سیکٹر میں پاکستان کا درجہ 30 فیصد بلند ہوا: افتخار احمد راؤ وزیراعظم سے کروشین وزیر خارجہ کی ملاقات، باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق حکومتِ پنجاب اور امریکن قونصلیٹ لاہور کا کلچر کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا اہم اجلاس، اقتصادی سفارت کاری اور فعال خارجہ پالیسی کو وقت کی ضرورت قرار دے دیا ملکی تاریخ کا نیا ریکارڈ: مالی سال 26ء میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41.6 ارب ڈالر وطن بھیج دیے حکومت کا رواں مالی سال سے ہائبرڈ سکوک بانڈز کے اجرا کا فیصلہ محکمہ ایکسائز کا 25 ارب 43 کروڑ روپے کا ریکارڈ ریونیو جمع آبنائے ہرمز صرف ایرانی انتظامات کے تحت ہی کھلے گی: باقر قالیباف کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس سروس معطل محسن نقوی کی یو این سیکرٹری جنرل سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

مشرقِ وسطیٰ جنگ کے اثرات؛ عالمی منڈی میں یوریا کھاد کی قیمتیں 14 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

Web Desk

13 May 2026

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی سطح پر زرعی اجناس اور کھادوں کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایک تحقیقی ادارے کی رپورٹ کے مطابق، اپریل 2026 میں عالمی منڈی میں یوریا کی قیمتوں میں ریکارڈ 70 فیصد تک اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کی فی ٹن قیمت 889 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ گزشتہ 14 سالوں کی بلند ترین سطح ہے، جبکہ گزشتہ دہائی کے دوران یوریا کی اوسط عالمی قیمت 360 ڈالر فی ٹن کے لگ بھگ رہی تھی۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں غیر معمولی اضافے کے باوجود، پاکستان کے لیے خوش آئند بات یہ ہے کہ مقامی سطح پر یوریا کی قیمتیں عالمی قیمتوں کے مقابلے میں اب بھی کافی حد تک مستحکم ہیں۔ ریسرچ ادارے کے مطابق، پاکستان میں یوریا اس وقت عالمی منڈی کے نرخوں سے تقریباً 65 فیصد ڈسکاؤنٹ پر ٹریڈ ہو رہا ہے، جس سے مقامی کسانوں کو عالمی سطح پر آنے والے اس بڑے معاشی جھٹکے سے کسی حد تک تحفظ ملا ہوا ہے۔