LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کویت کے اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات، دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال یوکرین میں غیر ملکی فوجی دستے روس کے جائز فوجی اہداف بنیں گے، ماریہ زخارووا شاہ غلام قادر، راجہ فاروق حیدر نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ مسترد کر دیا وزیر داخلہ کا نادرا میگا سینٹر میں پاسپورٹ آفس کی سہولت مہیا کرنے کا اعلان پاکستانی طالبات کیلئے بڑی خوشخبری، ٹیوشن فیس اور ہاسٹل سمیت اسکالرشپ کا اعلان پمز ہسپتال کے واقعے نے قوم کو غم میں مبتلا کر دیا: حافظ نعیم الرحمٰن بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل منتقلی کا معاملہ: عظمیٰ خان کی توہینِ عدالت کی فوری سماعت کے لیے نئی درخواست دائر پمز حادثہ انتہائی دل خراش، کیٹی بندر پر ڈیپ سی پورٹ بنانا شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کردیا سانحہ پمز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست دائر دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ گیس سبسڈی نظام اور قیمتوں کے سلیب پر نظرثانی کی ضرورت ہے، علی پرویز ملک ایران کا ایک بار پھر حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات کے معائنے سے انکار ملکی دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی تازہ ترین صورتحال: واپڈا نے اعداد و شمار جاری کر دیے

ابوظہبی میں امریکا روس مذاکرات؛ یوکرینی صدر کی امن منصوبے پر آمادگی

Web Desk

25 November 2025

ابوظہبی: امریکی اور برطانوی میڈیا کے مطابق امریکا اور روس کے درمیان یوکرین جنگ کے معاملے پر ابوظہبی میں اہم مذاکرات جاری ہیں، جنہیں گزشتہ کئی ماہ میں سب سے نمایاں سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی آرمی سیکریٹری ڈین ڈرسکول نے پیر اور منگل کو ابوظہبی میں روسی وفد سے ملاقاتیں کیں، جب کہ آج بھی ایک اور ملاقات متوقع ہے۔ برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ یوکرین کی ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ بھی ان مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ کریملن ترجمان دیمتری پیسکوف نے تاہم ان مذاکرات کی نہ تصدیق کی ہے نہ تردید۔

ادھر رائٹرز کے مطابق یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکا کے امن منصوبے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی فریم ورک کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں اور متنازع نکات پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہِ راست بات چیت کریں گے۔ زیلنسکی نے زور دیا کہ امن مذاکرات میں یورپی اتحادیوں کی شمولیت ضروری ہے تاکہ کوئی فیصلہ یوکرین یا یورپ کے مفاد کے خلاف نہ ہو۔

یوکرینی صدر نے اتحادی ممالک کے اجلاس سے خطاب میں واضح کیا کہ امن کے لیے فریم ورک موجود ہے اور یوکرین اسے آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے، تاہم اس عمل میں امریکی صدر کی ذاتی شمولیت ناگزیر ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی اور یوکرینی مذاکرات کار اختلافات کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، البتہ یوکرین کو خدشہ ہے کہ اسے روسی شرائط کے مطابق کسی معاہدے پر مجبور نہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے حوالے سے “ہم بہت قریب آ چکے ہیں” اور یہ عمل جلد مکمل ہو سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یوکرین کے قومی سلامتی مشیر رستم عمرُوف نے بتایا کہ صدر زیلنسکی جلد امریکا کا دورہ کر سکتے ہیں تاکہ امن معاہدے کے حتمی نکات پر بات چیت کی جا سکے، تاہم امریکی حکام نے ابھی اس دورے کی تصدیق نہیں کی۔

اس سفارتی سلسلے میں اتوار کو جنیوا میں امریکی اور یوکرینی مذاکرات کاروں کی ملاقات کے بعد ابوظہبی میں امریکا اور روس کے درمیان دو روزہ مذاکرات کو خطے میں امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔