LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کا ایران پر مزید دباؤ بڑھانے کا اعلان، نئی پابندیوں کا عندیہ اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ملاقات بلاول بھٹو 3 روزہ دورے پر مظفرآباد پہنچ گئے، پُرتپاک استقبال اردن کے عوام اپنی سرزمین سے امریکی اڈوں کے خاتمے کا مطالبہ کریں: پاسداران انقلاب شہباز شریف سے یو این سیکرٹری جنرل کی امیدوار مشیل باشلیٹ کی ملاقات شہداء کی قربانیوں کا نعم البدل دنیا کے خزانے بھی نہیں: بیرسٹر گوہر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ ترکیہ، صدر اردوان سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات، دفاعی تعاون پر گفتگو روم میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی ثالثی میں مذاکرات کا آغاز یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کا خلیجی فضائی حدود میں پروازوں کے خطرات سے انتباہ دہشت گردی کے خلاف بحیثیت قوم نبرد آزما ہونا ہوگا: بیرسٹر سلمان اکرم راجہ پی ٹی آئی کا قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ برقرار دہشت گردی ایک ناسور، ہمارے شہداء قوم کے ہیرو ہیں: بیرسٹر گوہر خان کی میڈیا سے گفتگو سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر حملے ناقابلِ قبول ہیں: وزیراعظم آبنائے ہرمز کے قریب بندر عباس میں پانچ دھماکوں کی آوازیں، ایرانی سرکاری ٹی وی کیش لیس معیشت سے شفافیت اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ ملے گا، وزیراعظم

وزیرِ اعظم شہباز شریف 23 تا 25 مئی چین کا دورہ کریں گے

Web Desk

9 May 2026

وزیرِ اعظم شہباز شریف 23 سے 25 مئی تک چین کا اہم سرکاری دورہ کریں گے، جہاں وہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔

ذرائع کے مطابق، دورے کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف کی چینی صدر شی جن پنگ اور وزیرِ اعظم لی چیانگ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے کی تقریبات کے حوالے سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس میں وزیرِ اعظم خصوصی طور پر شرکت کریں گے۔

اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور دوطرفہ تعاون کے مختلف شعبوں میں اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔ مذاکرات کا بنیادی محور پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کے اگلے مرحلے کی رفتار تیز کرنا اور معاشی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس دورے سے علاقائی استحکام اور مشترکہ ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔