LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امید ہے کہ ایران امریکا بات چیت جلد دیرپا امن میں بدلے گی: وزیر اعظم امریکی صدر نے پراجیکٹ فریڈم روک کر جرات کا مظاہرہ کیا: وزیراعظم کا ٹرمپ سے اظہار تشکر سعودی عرب کا خطے میں فوجی کشیدگی پر اظہارِ تشویش، پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت ملک بھرکے بجلی صارفین کو بڑا ریلیف ملنے کا امکان سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے دائرۂ اختیار پر اہم فیصلہ جاری نارووال میں بین الاقوامی پیس ڈائیلاگ: امن، مکالمہ اور ہم آہنگی کا عالمی پیغام صدر مملکت نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا ایران: شاپنگ سینٹر میں خوفناک آگ بھڑک اُٹھی، 8 افراد جاں بحق معاشی استحکام کیلئے کیپٹل مارکیٹ کا مضبوط ہونا ناگزیر ہے: وزیر خزانہ پنجاب کی ترقی کا سنہرا دور شروع ہو چکا ہے: مریم نواز شریف پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، 3000 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ بھارت کی شکست کا ایک سال مکمل، معرکہ حق کی مناسبت سے تقریب کا پرومو جاری بلوچستان: رکھنی اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5 ریکارڈ پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر پراجیکٹ فریڈم مختصر مدت کیلئے روکنے پر اتفاق کر لیا، ٹرمپ کا اعلان آبنائے ہرمز میں ایک کارگو جہاز کو نشانہ بنائے کی اطلاع موصول

اسلام آباد ہائیکورٹ کی سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو گرفتاری کی وارننگ؛ بشریٰ بی بی کی ملاقاتوں پر رپورٹ طلب

Web Desk

6 May 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی تک ذاتی معالج کی رسائی اور فیملی ملاقاتوں سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل پیش نہیں ہوئے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر سپرنٹنڈنٹ ذاتی حیثیت میں پیش ہوں، بصورت دیگر انہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی، جبکہ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک عدالت میں پیش ہوئے۔ بشریٰ بی بی کی بیٹی کی جانب سے وکیل سلمان اکرم راجہ پیش ہوئے۔سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے ایک دن کی مہلت طلب کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ معاملہ فوری نوعیت کا نہیں ہے، تاہم سلمان اکرم راجہ نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ فیملی کو ملاقات کی اجازت نہ ملنا ایک سنگین اور فوری نوعیت کا مسئلہ ہے۔ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اپنایا کہ بشریٰ بی بی سزا یافتہ قیدی ہیں اور ان سے ملاقاتیں جیل مینوئل کے مطابق ہو رہی ہیں، تاہم وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ منگل کے روز بھی ملاقات نہیں کروائی گئی اور آخری بار 24 فروری کو فیملی ممبرز سے ملاقات ہوئی تھی۔سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل اور سلمان اکرم راجہ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بشریٰ بی بی کی طبی حالت اور جیل ملاقاتوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کر دی۔