LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کا ایران پر مزید دباؤ بڑھانے کا اعلان، نئی پابندیوں کا عندیہ اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ملاقات بلاول بھٹو 3 روزہ دورے پر مظفرآباد پہنچ گئے، پُرتپاک استقبال اردن کے عوام اپنی سرزمین سے امریکی اڈوں کے خاتمے کا مطالبہ کریں: پاسداران انقلاب شہباز شریف سے یو این سیکرٹری جنرل کی امیدوار مشیل باشلیٹ کی ملاقات شہداء کی قربانیوں کا نعم البدل دنیا کے خزانے بھی نہیں: بیرسٹر گوہر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ ترکیہ، صدر اردوان سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات، دفاعی تعاون پر گفتگو روم میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی ثالثی میں مذاکرات کا آغاز یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کا خلیجی فضائی حدود میں پروازوں کے خطرات سے انتباہ دہشت گردی کے خلاف بحیثیت قوم نبرد آزما ہونا ہوگا: بیرسٹر سلمان اکرم راجہ پی ٹی آئی کا قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ برقرار دہشت گردی ایک ناسور، ہمارے شہداء قوم کے ہیرو ہیں: بیرسٹر گوہر خان کی میڈیا سے گفتگو سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر حملے ناقابلِ قبول ہیں: وزیراعظم آبنائے ہرمز کے قریب بندر عباس میں پانچ دھماکوں کی آوازیں، ایرانی سرکاری ٹی وی کیش لیس معیشت سے شفافیت اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ ملے گا، وزیراعظم

مقررہ مدت کے اندرفیصلہ نہ سناناقانون کی خلاف ورزی ہے، وفاقی آئینی عدالت

Web Desk

4 May 2026

وفاقی آئینی عدالت  نے کئی کئی ماہ عدالتی فیصلے محفوظ رکھنے  اور سنانے سے قبل لیک ہونے کے خلاف فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے مقررہ  مدت کے اندر فیصلہ نہ سنانا قانون کی خلاف  ورزی قرار دیا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے مطابق  ہائی کورٹس محفوظ شدہ فیصلہ 90 دن میں سنانےکی پابند ہیں،  مقررہ مدت کے بعد سنایا گیا فیصلہ اسی بنیاد پر ہی کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے مطابق  سپریم کورٹ  اور ہائی کورٹس کے رولز قوانین کا درجہ رکھتے ہیں، قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو نتائج بھی بھگتنا ہوتے ہیں، بنچ ممبران کا جانے انجانے میں سنائے جانے سے قبل فیصلہ لیک کرنا رولز کے خلاف ہے، تمام ججز اور عدالتی عملہ قواعد پر عملدرآمد کا مکمل پابند ہے، بنچ کا سربراہ قبل از وقت فیصلہ یا اس کے نکات لیک ہونے پر ازسرنو سماعت کا حکم دے سکتا ہے،  مقدمہ کی ازسرنو سماعت فیصلہ محفوظ کرنے والا یا کوئی دوسرا بنچ بھی کرسکتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے مطابق ہائی کورٹس میں ایسا معاملہ چیف جسٹس اور سپریم کورٹ میں ججز کمیٹی کو بھیجا جائےگا، زیرالتواء مقدمات کا بوجھ ہو تو  انصاف کی بروقت فراہمی ضروری ہے، کچھ عرصے سے فیصلے محفوظ کرنے کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلہ آنے تک فریقین اپنے حقوق ملنےکا طویل انتظار کرتے رہتے ہیں،  فیصلہ محفوظ ججز کےکسی نتیجے پر متفق نہ ہونے یا پیچیدہ قانونی نکات ہونے پر کیا جاتا ہے، موجودہ کیس میں سندھ ہائی کورٹ نے محفوظ شدہ فیصلہ 10 ماہ کے بعد سنایا۔

وفاقی آئینی عدالت نے پاکستان شپنگ کارپوریشن کی اپیل نمٹاتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی آبزرویشنز حذف کر دیں۔

وفاقی آئینی عدالت  کے جسٹس عامر فاروق نے سات صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا ۔عدالت نے فیصلے کی نقول عملدرآمد کےلیے تمام ہائی کورٹس کو بھجوانے کا حکم دیا ہے۔