LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پنجاب حکومت خوابوں کی تعبیر تک نوجوانوں کا ساتھ دے گی: مریم نواز آبنائے ہرمز سرخ لکیر، خطے میں امریکی تنصیبات تباہ کر دیں گے: ایرانی افواج ایران امریکا کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں: پاکستان نیب ترامیم کیس: ضمانت کے مقدمات میں سپریم کورٹ کے اختیار پر سوال، فیصلہ محفوظ کیا اب ایم اے پاس افراد سوئیپر بنیں گے؟ آئینی عدالت کے ریمارکس نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی سہولتی اراضی کا استعمال تبدیل کرنے پر پابندی ایران میں حکومت کی تبدیلی کیلئے زمینی فوج نہیں اتاریں گے: جے ڈی وینس پنجاب کے 5 اضلاع میں گرین الیکٹرک بس سروس کا باقاعدہ افتتاح الیکشن کمیشن کا عام انتخابات سے قبل انتخابی قوانین، آئین میں تبدیلیوں کا فیصلہ لیبیا کے قریب تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 50 اموات کا خدشہ ایران نے امریکا کے حملوں کے باوجود امریکی خاتون رہا کر دی، ٹرمپ کا خیرمقدم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی، ایک لاکھ 77 ہزار پوائنٹس کی حد بحال صدرِ مملکت نے وزیراعظم کی سفارش پر 3سمریوں کی منظوری دے دی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار 2 روزہ دورے پر چین روانہ افغان طالبان کیخلاف قانونی چارہ جوئی، عالمی عدالتِ انصاف میں مقدمہ تیار

جوڈیشل کمیشن، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس کیانی،جسٹس بابر،جسٹس ثمن کے تبادلوں کی منظوری

Web Desk

28 April 2026

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں ہائیکورٹ کورٹ کے تین ججز کے تبادلوں کی منظوری دے دی گئی۔

جسٹس محسن اختر کیانی کا اسلام آباد ہائی کورٹ سے لاہور ہائی کورٹ تبادلہ اکثریت سے منظورکرلیاگیاجبکہ جسٹس بابر ستار کے اسلام آباد ہائی کورٹ سے پشاور ہائی کورٹ تبادلے کی بھی اکثریت سے منظوری دی گئی۔جسٹس سمن رفعت امتیاز کا اسلام آباد ہائی کورٹ سے سندھ ہائی کورٹ تبادلہ اکثریت سے منظورکیاگیا۔

اجلاس کے بعدجاری اعلامیے کے مطابق اجلاس مختلف سیشنز میں منعقد ہوا، جن میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلوں پر غور کیا گیا۔اعلامیے کے مطابق جسٹس ارباب ایم طاہر کے بلوچستان ہائی کورٹ تبادلے کی تجویز واپس لے لی گئی اسی طرح جسٹس خادم حسین سومرو کے سندھ ہائی کورٹ تبادلے کی تجویز بھی واپس لے لی گئی۔

چیئرمین کی جانب سے ایک تہائی اراکین کی ریکوزیشن پر اجلاس بلانے سے معذرت کے بعد سیکریٹری نے اختیار استعمال کرتے ہوئے اجلاس طلب کیاتھا۔متعلقہ ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان نے ہر کیس میں بطور رکن شرکت کی اورہر جج کے تبادلے پر علیحدہ علیحدہ غور کیا گیا

کمیشن نے اکثریت سے فیصلہ کیا کہ ججز کے تبادلوں سے پیدا ہونے والی خالی نشستیں صرف ٹرانسفر کے ذریعے پُر کی جائیں گی۔ ایسی خالی آسامیوں کو نئی تقرری کے لیے اوپن نہیں کیا جائے گا۔اعلامیےمیں کہاگیاہے کہ ان فیصلوں کامقصد ہائی کورٹس کے درمیان ججز کی تعیناتی میں توازن برقرار رکھنا اور نظام کو مؤثر بنانا قرار دیا گیا۔