LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک حراستی مرکز کے باہر مظاہرے، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، آنسو گیس کا استعمال امریکا: میساچوسٹس کے تعلیمی اداروں میں ریچھ داخل، طلبہ کلاس رومز تک محدود رہے پاکستان ون ڈے کرکٹ میں 1000میچ کھیلنے والی تیسری ٹیم بن گئی وزیراعلیٰ نے ستھرا پنجاب ورکرز کیلئے 10ہزار فی کس انعام کا اعلان کیا ہے: مریم اورنگزیب پاکستان ایک مخلص دوست، ایران کے ساتھ اچھی ڈیل ہوگی: امریکی وزیر جنگ جیٹ فیول اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں بڑی کمی، نوٹیفکیشن جاری آئی ایم ایف کا گاڑیوں اور سولر پینلز پر سیلز ٹیکس چھوٹ برقرار رکھنے سے انکار پاکستان کی شاندار کامیابی: مسلسل پانچویں سال بھی ایراسمس منڈس اسکالرشپ حاصل کرنے میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر برقرار امریکی صدر کے نام کی شمولیت غیر قانونی قرار: کینیڈی سینٹر بند کرنے کا ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ امریکی عدالت نے معطل کر دیا حاجیوں کی وطن واپسی کے لیے سعودی عرب سے پروازوں کا آغاز کل ہوگا امریکا کا امیر ممالک کے دفاعی اخراجات کا مزید بوجھ اٹھانے سے انکار ملک بھر میں 74 لاکھ 70 ہزار جانور قربان کیے گئے، ٹینریز ایسوسی ایشن ٹیکس وصولی کے لیے ایف بی آر کے تمام دفاتر 30 مئی کو کھلے رہیں گے اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی واشنگٹن میں ملاقات، پاک امریکا تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ابراہیمی معاہدے سے متعلق افواہیں بے بنیاد، فلسطین پر مؤقف میں کوئی لچک نہیں: اسحاق ڈار

مارکیٹ میں کپاس کی قیمتیوں کا ملا جلا رجحان

Web Desk

24 November 2025

کراچی کپاس ایسوسی ایشن کے مطابق اسپاٹ ریٹ 15,200 روپے فی من پر مستحکم رہا۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق اس سال کپاس کی پیداوار خطرناک حد تک کم ہو کر تقریباً 55 لاکھ گانٹھوں تک رہنے کا امکان ہے، جو پچھلے سال کے برابر ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی غیر موافق پالیسیوں کے باعث 300 سے زائد جننگ فیکٹریاں اور 150 سے زائد ٹیکسٹائل ملز غیر فعال ہو چکی ہیں، جس سے کپاس کی کھپت اور پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

حالانکہ حکومت نے اگلے پانچ برس میں ٹیکسٹائل اور اپیرل برآمدات میں 64 فیصد اضافہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، لیکن نئی شوگر ملوں کے قیام کی اجازت نے کپاس کی پیداوار پر خدشات بڑھا دیے ہیں، کیونکہ گنے کی کاشت میں اضافہ کپاس کی زمین کو متاثر کرے گا۔

سندھ اور پنجاب میں کپاس کی قیمتیں 14,700 سے 16,000 روپے فی من کے درمیان، جبکہ پٹھی کی قیمتیں 6,000 سے 8,200 روپے فی 40 کلوگرام ہیں۔

اسی طرح بلوچستان میں کپاس 15,300 سے 16,000 روپے اور پٹھی 7,800 سے 9,200 روپے فی 40 کلوگرام میں فروخت ہو رہی ہے۔

ماہرین نے کہا کہ کپاس کے تین اہم اسٹیک ہولڈرز کاشتکار، جنرز اور اسپننگ ملیں فی الحال انتہائی مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ کاشتکار معیاری بیج، ادویات اور مناسب رہنمائی نہ ملنے سے متاثر ہیں، جنرز غیر منصفانہ ٹیکس بوجھ اور بجلی کے بھاری اخراجات میں الجھے ہوئے ہیں اور اسپننگ ملیں بڑھتی ہوئی پیداوار لاگت اور درآمدی یارن کے دباؤ سے بحران کا شکار ہیں۔