LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیلڈ مارشل خطے میں امن کیلئے تہران گئے، کوئی معاہدہ نہیں ہو رہا تھا: خواجہ آصف قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اپوزیشن لیڈرز کی ملاقات: محمود خان اچکزئی کی علامہ راجہ ناصر عباس سے سیاسی صورتحال پر گفتگو امریکا اور اسرائیل ایران پر بڑے حملوں کی تیاری کر رہے ہیں: امریکی میڈیا پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر مثبت رجحان بلوچستان میں ٹرین سروس ایک روز کے لئے معطل مٹی سے سونے کا قیمتی نگٹ برآمد ایرانی عدالت نے ایوارڈ یافتہ فلمساز کو 5 سال قید کی سزا سنادی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کیلئے پولنگ کا آغاز ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا سکھیکی: مسافر بس سیم نالے میں گر گئی، 5 افراد جاں بحق، 40 زخمی برطانیہ نے 3 جوہری آبدوزوں کو ایک ساتھ سمندر میں اتار دیا 24 گھنٹوں میں یمنی فوج کی 749 ٹارگٹڈ کارروائیاں، 239 حوثی ہلاک یا زخمی اسرائیلی حملے، غزہ میں کم از کم 5 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے نیتن یاہو کے حریف گادی آئزن کوٹ کا اسرائیل میں تبدیلی لانے کے عزم کا اعادہ اسرائیل میں سیاسی ڈیڈ لاک کا خدشہ، نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں پڑ گیا

سوشل میڈیا کمائی پر ایف بی آر کا شکنجہ: یوٹیوبرز اور انفلوئنسرز کے لیے نئی ٹیکس پالیسی تیار

Web Desk

2 April 2026

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ملک میں سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والی خطیر آمدن کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ ادارے کی جانب سے جاری کردہ حالیہ نوٹیفکیشن کے مطابق، سوشل میڈیا ماہرین اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے ایک ہفتے کے اندر تجاویز طلب کی گئی ہیں تاکہ ایک جامع اور منصفانہ ٹیکس پالیسی وضع کی جا سکے۔

مجوزہ پالیسی کے تحت، سوشل میڈیا پر سرگرمیوں کو ‘کاروباری سرگرمی’ تصور کرنے کے لیے مخصوص معیار (Benchmarks) مقرر کیے گئے ہیں۔ اگر کوئی صارف ایک مالی سال میں 50 ہزار ویوز یا ایک سہ ماہی (Quarter) میں 12 ہزار 500 ویوز حاصل کرتا ہے، تو اسے کاروباری فرد تصور کرتے ہوئے انکم ٹیکس لاگو کیا جائے گا۔ سب سے اہم تجویز YouTube کے حوالے سے ہے، جہاں ایف بی آر کا تخمینہ ہے کہ ہر 1000 ویوز پر 195 روپے کی اوسط آمدن ہوتی ہے، اور اسی رقم کو بنیاد بنا کر ٹیکس کا تعین کیا جائے گا۔

ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد دستاویزی معیشت کو فروغ دینا اور ان شعبوں سے ریونیو حاصل کرنا ہے جو اب تک ٹیکس نیٹ سے باہر تھے۔ ماہرین کی تجاویز موصول ہونے کے بعد حتمی پالیسی کو قانونی شکل دی جائے گی۔