برازیل نے اپنی تاریخ کا پہلا سپرسونک لڑاکا طیارہ تیار کر لیا
Web Desk
26 March 2026
برازیل نے دفاعی ہوا بازی کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ملک کی تاریخ کا پہلا مقامی سطح پر تیار کردہ سپرسونک (Supersonic) لڑاکا طیارہ متعارف کروا دیا ہے۔ بدھ کے روز برازیل کے شہر گاویاو پیکسوٹو میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں ‘گریپن’ (Gripen) ماڈل کے اس جدید طیارے کی رونمائی کی گئی، جسے مکمل طور پر برازیل میں اسمبل کیا گیا ہے۔ اس اہم پیش رفت کے بعد برازیل دنیا کے ان چند مخصوص ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو جدید ترین جنگی طیارے بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
برازیل نے یہ کامیابی سویڈن کی مشہور دفاعی کمپنی ‘صاب’ (Saab) کے ساتھ 2014 میں ہونے والے ایک تزویراتی معاہدے کے نتیجے میں حاصل کی ہے۔ اس معاہدے کے تحت برازیل کو مجموعی طور پر 36 طیاروں میں سے 15 طیارے مقامی سطح پر تیار کرنے کی اجازت ملی ہے۔ صاب کے سربراہ میکائل یوہانسن کے مطابق، کمپنی کی 90 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی لڑاکا طیارہ سویڈن سے باہر تیار کیا گیا ہے۔ برازیل نے امریکی ‘ایف-18 سپر ہارنیٹ’ اور فرانسیسی ‘رافیل’ کے مقابلے میں سویڈش ‘گریپن’ کا انتخاب ٹیکنالوجی کی منتقلی (Transfer of Technology) کے حصول کے لیے کیا تھا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف برازیل کی فضائیہ کو جدید بنائے گا بلکہ اسے خطے میں ایک بڑے برآمد کنندہ کے طور پر بھی ابھارے گا۔ ہمسایہ ملک کولمبیا نے پہلے ہی ان طیاروں کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کر دی ہے۔ برازیل کی اس کامیابی کو اس کی فضائی صنعت، خاص طور پر ایمبریئر (Embraer) کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مقبولیت کا ایک تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔
متعلقہ عنوانات
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ
7 November 2026
میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
6 November 2026