LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی سپریم لیڈر کے ہر حکم پر عمل کریں گے؛ حوثی کمانڈر کا دوٹوک اعلان ناروے میں خوفناک آتشزدگی، 100 سے زائد گھر جل گئے ایرانی فوجی صلاحیتیں کمزور کرنے کا مشن، امریکا کے مسلسل ساتویں رات ایران پر حملے حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی کے مذاکرات کامیاب، تحریری معاہدہ طے پا گیا ایرانی وزارت توانائی کی شہریوں سے بجلی کا استعمال کم کرنے کی اپیل 27 جولائی کو جب کشمیر میں ڈبے کھلیں گے تو ہر طرف شیر ہی شیر ہوگا: مریم اورنگزیب خطے کے پانیوں میں امریکی فوج کی نقل و حرکت، انکے فوجی ساز و سامان پر نظر ہے: ایران فارما سیوٹیکل صنعت کو عالمی سطح پر نمایاں کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا: مصطفیٰ کمال خلائی سائنسدانوں کے استعفوں کے بعد مودی سرکار پریشان، رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور استعفوں پر پابندی لگادی پٹرولیم قیمتوں کی ڈی ریگولیشن مسترد، پٹرول پمپ مالکان کی ہڑتال کی دھمکی پاسدارانِ انقلاب کا قطر میں امریکی العدید ایئر بیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم: پٹرول 5 روپے 44 پیسے اور ڈیزل ریکارڈ 31 روپے 5 پیسے مہنگا ایرانی حملے میں بجلی اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نقصان پہنچا: کویت امریکا نے غیرملکی طلبہ اور صحافیوں کے ویزا قوانین سخت کر دیے، قیام کی مدت مقرر پیٹرولیم مصنوعات:حکومتی اقدام کو “لوٹ مار” اور “ڈاکہ” قرار,حافظ نعیم الرحمان

وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ: کم عمری کی شادی پر سزا ہو سکتی ہے مگر نکاح ختم نہیں ہوگا،

Web Desk

26 March 2026

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے 18 سال سے کم عمر مسیحی لڑکیوں کی مسلمان لڑکوں سے شادی اور پسند کے نکاح کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور دور رس فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے لاہور کی رہائشی ماریہ بی بی کے قبولِ اسلام اور شہریار نامی لڑکے سے نکاح کو قانونی طور پر درست تسلیم کرتے ہوئے اس کے والد کی جانب سے دائر کردہ حبسِ بے جا کی درخواست خارج کر دی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ چائلڈ میرج ایکٹ 1929 کے تحت کم عمری کی شادی پر فوجداری سزا تو دی جا سکتی ہے، لیکن قانون میں کہیں بھی اس بنیاد پر نکاح ختم کرنے کا ذکر موجود نہیں ہے۔ فیصلے کے مطابق، مسلمان مرد شرعی طور پر ‘اہلِ کتاب’ خواتین کے ساتھ نکاح کرنے کے اہل ہیں، اور ماریہ بی بی کے معاملے میں اس کے قبولِ اسلام کا ڈیکلریشن پہلے سے موجود تھا۔

اس فیصلے کی ایک اہم ترین شق عدالتوں کے دائرہ اختیار سے متعلق ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ آئینی تشریح کے لیے حتمی فورم سپریم کورٹ نہیں بلکہ وفاقی آئینی عدالت ہی ہے، اور سپریم کورٹ سمیت تمام ماتحت عدالتیں آئینی عدالت کے احکامات ماننے کی پابند ہیں۔ عدالت نے مزید واضح کیا کہ وہ سپریم کورٹ کے وضع کردہ ان اصولوں یا نظیروں کو ماننے کی پابند نہیں جو آئین یا قانون سے متصادم ہوں۔