LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مصنوعی ذہانت جدت کیساتھ گورننس کے نئے چیلنجز بھی لارہی ہے: چینی صدر وینزویلا: 24 گھنٹے میں مزید 101 افراد جاں بحق، زلزلوں سے ہلاکتیں 4930 ہوگئیں دنیا میں ہر دسواں شخص انتہائی غریب، 2.3 ارب افراد بھوکے سوتے ہیں: اقوام متحدہ چین نے برطانیہ کے برٹش سٹیل کو نیشنلائز کرنے کے فیصلے کی مخالفت کردی قطر کی عراق کے نیم خودمختار کردستان خطے پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت ایران کا امریکا پر ایک اور ’’کھلی جنگی جارحیت‘‘ کا الزام ایران کیخلاف بحری ناکہ بندی: 3 روز میں 4 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا: سینٹ کام ایران کا امریکی بحری جہاز پر حملہ، بحرین میں امریکی ڈرونز کے ڈپو کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایران کے مختلف شہروں میں دھماکے، خارگ جزیرے کے قریب آئل ٹینکر پر بھی حملہ: ایرانی میڈیا امریکا نے ایران میں مزید حملے کیے تو جنگ کا رخ بدل سکتا ہے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر ایرانی سپریم لیڈر کے ہر حکم پر عمل کریں گے؛ حوثی کمانڈر کا دوٹوک اعلان ناروے میں خوفناک آتشزدگی، 100 سے زائد گھر جل گئے ایرانی فوجی صلاحیتیں کمزور کرنے کا مشن، امریکا کے مسلسل ساتویں رات ایران پر حملے حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی کے مذاکرات کامیاب، تحریری معاہدہ طے پا گیا ایرانی وزارت توانائی کی شہریوں سے بجلی کا استعمال کم کرنے کی اپیل

قطری فوجی ہیلی کاپٹر حادثے میں 3 ترک شہریوں سمیت 7 افراد جاں بحق

Web Desk

22 March 2026

دوحہ: قطر کی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کے روز سمندر میں گر کر تباہ ہونے والے فوجی ہیلی کاپٹر کے حادثے میں سوار تمام 7 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، جاں بحق ہونے والوں میں قطری مسلح افواج کے 4 ارکان اور 3 ترک شہری شامل ہیں۔ حکام نے تمام افراد کی شناخت مکمل ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

وزارتِ دفاع کے بیان کے مطابق، یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ہیلی کاپٹر ملک کی سمندری حدود میں معمول کی ڈیوٹی پر مامور تھا کہ اچانک تکنیکی خرابی کا شکار ہو کر سمندر برد ہو گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں کسی بھی قسم کی دشمنانہ کارروائی یا تخریب کاری کے شواہد نہیں ملے، اور اسے خالصتاً ایک تکنیکی حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں رونما ہوا ہے جب خطے میں سکیورٹی چیلنجز اور کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ قطری حکام نے واضح کیا ہے کہ واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ حادثے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔ جاں بحق ہونے والے ترک شہریوں کی موجودگی دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کی عکاسی کرتی ہے، اور اس حوالے سے مزید سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔