LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا آسیان ممالک کے ساتھ تعاون اور شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ حج 2027: پرائیویٹ حج آپریشن کیلئے نیا ڈیجیٹل نظام نافذ کرنے کا فیصلہ پی ٹی آئی کی مینارِ پاکستان پر جلسے کی اجازت کیلیے دائر درخواست مسترد برطانیہ میں 27 سال بعد نایاب گرہن، سورج 93 فیصد تک چھپ جائے گا ایران، عمان آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راستے کے معاہدے کے قریب پہنچ گئے امریکا ایران کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کا ثالثی کردار اہم رہا:ساؤتھ ایشین وائسز مکہ معاہدہ سعودیہ، پاکستان اور ترکیے کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے: بلاول پاکستان اور کشمیر کے مضبوط رشتے کو کوئی طاقت کمزور نہیں کرسکتی: رانا ثناء اللہ محسن نقوی نے شہداء اور غازیوں کیلئے سول اعزازات کی منظوری دے دی اسلامی تعاون تنظیم اور بحرین کا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم پاک امریکا اقتصادی تعاون، سویا بین شعبے میں شراکت داری مزید بڑھانے پر اتفاق آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کا ملک گیر غیر معینہ مدت ہڑتال کا آغاز مریم نواز کا صفائی نظام میں سخت مانیٹرنگ کا حکم، مزید بہتر بنانے کا ہدف تنقید کے باوجود امریکی آئی سی ای کارروائیاں جاری: جولائی کے مہینے میں 43 ہزار سے زائد افراد گرفتار جہلم اور سرائے عالمگیر میں زلزلے کے شدید جھٹکے،عوام خوفزدہ

مصنوعی ذہانت جدت کیساتھ گورننس کے نئے چیلنجز بھی لارہی ہے: چینی صدر

Web Desk

18 July 2026

بیجنگ (عالمی میڈیا): چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ دنیا مصنوعی ذہانت (AI) کی ٹیکنالوجیز میں غیر معمولی جدت کے دور میں داخل ہو چکی ہے، جو ایک جانب ترقی کے عظیم مواقع فراہم کر رہی ہے تو دوسری جانب گورننس اور سکیورٹی کے نئے چیلنجز بھی سامنے لا رہی ہے۔ 2026 ورلڈ اے آئی کانفرنس اور گلوبل اے آئی گورننس کے اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر نے زور دیا کہ عالمی برادری کو اس نئے دور کے بنیادی سوالات کے جوابات تلاش کرنا ہوں گے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ انسان سوچنے کی صلاحیت رکھنے والی مشینوں کے ساتھ کس طرح ہم آہنگی سے رہ سکتا ہے، الگورتھمز کے فیصلوں میں سلامتی کو کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہے، اور بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل فرق کے باوجود مصنوعی ذہانت کے فوائد سب تک کیسے پہنچائے جا سکتے ہیں۔ صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ ان اخلاقی اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پوری عالمی برادری کو سنجیدگی سے مشترکہ اور موثر حل تلاش کرنے ہوں گے۔