LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز سے متعلق ایران، عمان فریم ورک پر متفق، حتمی منظوری باقی ہے: حسن قشقاوی صدر مملکت نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ عالمی امن کیلئے اہم پیش رفت قرار دیدیا ایران اور عمان آبنائے ہرمز پر معاہدہ کرنے کے قریب پہنچ گئے: ایگزیوس روسی تیل کی فروخت روکنے کیلئے امریکی سینیٹ میں بل کثرت رائے سے منظور حکومت کا عوام کو ریلیف: پٹرول 2 روپے 2 پیسے فی لٹر سستا مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط میرے لیے اعزاز ہے: وزیراعظم امریکی ہتھیاروں کے ذخائر سے متعلق معلومات افشا ہونے پر ٹرمپ کا تحقیقات کا حکم بلوچستان بلدیاتی انتخابات: 9 اگست کو مختلف وارڈز میں ہونے والی پولنگ ملتوی صدر آصف علی زرداری دو روزہ دورے پر لاہور پہنچ گئے مکہ دفاعی معاہدہ خطے میں مشترکہ سلامتی کے نئے باب کا آغاز ہے: سرفراز بگٹی احتجاجی تحریک تیز، ضرورت پڑی تو دھرنا طویل کریں گے: حافظ نعیم الرحمان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ: خصوصی نغمہ جاری کر دیا گیا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں امن کیلئے سنگ میل ہے: احسن اقبال دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، خطے میں امن کی جانب اہم پیش رفت ہے : ترک صدر مکہ دفاعی معاہدہ امن، سلامتی، خوشحالی کی جانب اہم سنگِ میل ہے:سعودی وزیرِ خارجہ

مصنوعی ذہانت جدت کیساتھ گورننس کے نئے چیلنجز بھی لارہی ہے: چینی صدر

Web Desk

18 July 2026

بیجنگ (عالمی میڈیا): چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ دنیا مصنوعی ذہانت (AI) کی ٹیکنالوجیز میں غیر معمولی جدت کے دور میں داخل ہو چکی ہے، جو ایک جانب ترقی کے عظیم مواقع فراہم کر رہی ہے تو دوسری جانب گورننس اور سکیورٹی کے نئے چیلنجز بھی سامنے لا رہی ہے۔ 2026 ورلڈ اے آئی کانفرنس اور گلوبل اے آئی گورننس کے اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر نے زور دیا کہ عالمی برادری کو اس نئے دور کے بنیادی سوالات کے جوابات تلاش کرنا ہوں گے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ انسان سوچنے کی صلاحیت رکھنے والی مشینوں کے ساتھ کس طرح ہم آہنگی سے رہ سکتا ہے، الگورتھمز کے فیصلوں میں سلامتی کو کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہے، اور بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل فرق کے باوجود مصنوعی ذہانت کے فوائد سب تک کیسے پہنچائے جا سکتے ہیں۔ صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ ان اخلاقی اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پوری عالمی برادری کو سنجیدگی سے مشترکہ اور موثر حل تلاش کرنے ہوں گے۔