LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہر طرف بدانتظامی، اس سال برآمدات میں 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا: ایس ایم تنویر عوام کے لیے بڑی خوشخبری: لائٹ ڈیزل 70 روپے اور جیٹ فیول 23 روپے سے زائد سستا وزیراعظم شہباز شریف سہ ملکی دورہ مکمل کرکے انطالیہ سے پاکستان روانہ فیلڈ مارشل کا دورہ ایران مکمل، خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق صدر اور وزیراعظم کا عالمی یوم ورثہ پر پاکستان کی ثقافتی شناخت کے تحفظ کا عہد پاکستان، سعودیہ، مصر اور ترکیہ کا اجلاس، ثالثی کوششوں کا خیرمقدم، مستقل امن کی توقعات پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں گریجوایٹ کورس کی پروقار پاسنگ آؤٹ تقریب اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.5 ریکارڈ امریکا نے روسی تیل کی خرید و فروخت پر پابندیاں مزید ایک مہینے کیلئے ہٹا دیں کراچی سے پہلی حج پرواز 160 عازمین کے ساتھ حجازِ مقدس روانہ ایران، امریکا اختلافات برقرار، جنگ بندی میں توسیع اور ابتدائی ڈیل کی امید آبنائے ہرمز کی بحالی : پاسدارانِ انقلاب کی جہازوں کے لیے نئی شرائط پاکستان اور ارجنٹائن فٹبال ٹیموں کے درمیان فرینڈلی میچ کی تیاریاں وزیراعظم نے ڈیزل کی قیمت میں 32روپے12پیسے فی لٹرکمی کی منظوری دے دی ایران کا آبنائے ہرمزمکمل طورپر کھولنے کا اعلان ، وزیر خارجہ عراقچی کابڑا اعلان

غصیلے نوجوانوں کو صحت کے کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟

Web Desk

9 March 2026

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ غصیلے اور جارحانہ رویہ رکھنے والے نوجوانوں کی حیاتیاتی عمر تیزی سے بڑھ سکتی ہے اور انہیں بعد کی زندگی میں صحت سے متعلق مختلف پیچیدگیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

جرنل ہیلتھ سائیکالوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق نوجوانوں میں جارحانہ رویہ حیاتیاتی عمر میں تیزی سے اضافے اور 30 برس کی عمر تک زیادہ باڈی ماس انڈیکس (BMI) سے تعلق رکھتا ہے۔

یہ تحقیق یونیورسٹی آف ورجینیا میں کی گئی جس میں امریکا کے جنوب مشرقی علاقوں کے شہری اور مضافاتی علاقوں سے تعلق رکھنے والے 121 مڈل اسکول طلبہ شامل تھے، جن میں 46 لڑکے اور 75 لڑکیاں تھیں۔

محققین نے شرکا کا مشاہدہ 13 برس کی عمر سے جوانی تک کیا۔ اس دوران والدین اور ساتھیوں سے ان کے رویے کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کون سے نوجوان زیادہ جارحانہ مزاج رکھتے ہیں۔

جب شرکا کی عمر 30 برس ہوئی تو سائنس دانوں نے ان کے حیاتیاتی بڑھاپے کا جائزہ لیا۔ اس مقصد کے لیے بلڈ پریشر، جسم میں سوزش، گلوکوز کی سطح، کولیسٹرول اور مدافعتی نظام کی کارکردگی جیسے اہم طبی پیمانوں کو جانچا گیا۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق کم عمری میں زیادہ غصہ اور جارحیت رکھنے والے افراد میں نہ صرف حیاتیاتی عمر زیادہ تیزی سے بڑھنے کے آثار دیکھے گئے بلکہ ان میں وزن اور صحت کے دیگر مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بھی زیادہ پایا گیا۔