LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات، ایرانی میڈیا ایران سے معاہدہ ہوا تو اسلام آباد جا سکتا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 1ارب 32 کروڑ ڈالر کی کمی ریکارڈ درآمدی گیس بند ہونے سے عارضی لوڈشیڈنگ، بحران جلد حل ہو جائیگا: وزیر توانائی پاکستان اور ترکیہ کے درمیان کمانڈو و سپیشل فورسز مشق ’’جناح XIII کامیابی سے مکمل وزیراعظم دوحہ پہنچ گئے، پرتپاک استقبال، امیرِ قطر سے ملاقات متوقع حج آپریشن 2026 میں بڑی پیش رفت؛ ‘روڈ ٹو مکہ’ پراجیکٹ کے لیے سعودی امیگریشن ٹیم کراچی پہنچ گئی پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا اہم کردار ادا کر رہا ہے: دفتر خارجہ معاشی استحکام کی جانب بڑی پیش رفت؛ سعودی عرب نے 2 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کو منتقل کر دیے پاکستان نیوی کا مقامی اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہ لبنان اور اسرائیل 34 برس بعد آج براہ راست بات چیت کریں گے: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز امریکا کی آبنائے ہرمز میں اشتعال انگیز کارروائیاں، ایران نے نتائج سے خبردار کر دیا پاور ڈویژن کی ملک میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی تصدیق ٹرمپ کی برطانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی

ناسا نے چاند پر اترنے کا ہدف سنہ 2028 تک مقرر کردیا

Web Desk

4 March 2026

امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنے آرٹیمس پروگرام میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے چاند پر پہلی لینڈنگ کا ہدف سنہ 2028 تک مقرر کر دیا، پروگرام کو سادہ اور مؤثر بنا کر پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا۔آرٹیمس منصوبے کے تحت اپریل 2026 میں آرٹیمس تھری مشن شیڈول کے مطابق برقرار رہے گا جبکہ سنہ 2027 کے وسط میں کم زمینی مدار (لو ارتھ آربٹ) میں ایک نمائشی مشن شامل کیا گیا ہے۔ چاند پر عملی لینڈنگ اب سنہ 2028 میں متوقع ہے۔
ناسا نے اعلان کیا ہے کہ ایس ایل ایس بلاک ون راکٹ کو معیاری شکل دی جائے گی اور تاخیر کا شکار اپ گریڈز منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ادارے نے انجینیئرنگ ماہرین کی بھرتی تیز کرنے کے لیے ناسا فورس کے نام سے اقدام بھی شروع کیا ہے تاکہ مشنز کی رفتار بڑھائی جا سکے۔
مشن کے دوران خلائی جہازوں کے ملاپ (رینڈیزوؤ) اور ڈاکنگ کے تجربات کیے جائیں گے جن میں نجی کمپنیوں کے لینڈرز مثلاً اسپیس ایکس اور بلیو اوریجن بھی شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ خلا میں لائف سپورٹ سسٹمز کے عملی تجربات بھی کیے جائیں گے۔
اس حوالے سے اسحاق مین نے کہا کہ جب آپ ہر 3 سال بعد لانچ کرتے ہیں تو مہارت کمزور پڑ جاتی ہے اور عملی تجربہ متاثر ہوتا ہے۔