LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی امید، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا زبردست تیزی پر اختتام سوئی گیس کا عید الاضحیٰ کے لیے نیا شیڈول جاری، صارفین کو سہولت دینے کا اعلان پاکستان میں گردشی قرض، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ پٹرول پر مقررہ ہدف سے زیادہ لیوی وصول کی جا رہی ہے، قائمہ کمیٹی میں انکشاف رضوان کی کپتانی میں ٹیم بہتر نتائج نہ دے سکی، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن امریکا ایران امن معاہدے کی توقع؛ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی کمی امریکی صدر کا سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ 2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان

پاکستان میں کرپٹو کرنسی اور ورچوئل اثاثوں کے لیے تاریخی قانون نافذ؛ اسٹیٹ بینک نے ریگولیٹری فریم ورک جاری کر دیا

Web Desk

15 April 2026

پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کی جانب ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ورچوئل اثاثوں (Virtual Assets) کو قانونی حیثیت دینے اور ان کی باقاعدہ نگرانی کے لیے نیا قانون نافذ کر دیا ہے۔ اس نئے فریم ورک کے تحت “پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی” (PVARA) قائم کی گئی ہے جو تمام ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والے اداروں (VASPs) کو لائسنس جاری کرنے اور ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کی ذمہ دار ہوگی۔ اسٹیٹ بینک کے ریگولیٹڈ ادارے اب صرف ان سروس فراہم کنندگان کے اکاؤنٹس کھول سکیں گے جن کے پاس باقاعدہ لائسنس موجود ہوگا۔

نئے قانون کے مطابق، بینکوں کے لیے یہ لازمی ہوگا کہ وہ کسی بھی وی اے ایس پی (VASP) کا اکاؤنٹ کھولنے سے پہلے اس کے لائسنس کی مکمل تصدیق کریں اور ان کی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی یقینی بنائیں۔ صارفین کے تحفظ کے لیے یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ صارفین کے فنڈز کے لیے علیحدہ “کلائنٹ منی اکاؤنٹس” کھولے جائیں گے، اور کمپنی کے اپنے فنڈز کو صارفین کی رقوم کے ساتھ ملانا سختی سے ممنوع ہوگا۔ یہ تمام اکاؤنٹس صرف پاکستانی روپے میں چلائے جائیں گے اور ان میں نقد رقم جمع کرانے یا نکلوانے (Cash In/Out) کی اجازت نہیں ہوگی، تمام لین دین بینکنگ چینلز کے ذریعے ہوگا۔

اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ بینک اپنے ذاتی فنڈز یا صارفین کی جمع شدہ رقوم کو ورچوئل اثاثوں میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال نہیں کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ، بینکوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ مشکوک لین دین کی فوری رپورٹ فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (FMU) کو کریں تاکہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت جیسے خطرات کا سدِباب کیا جا سکے۔ ماہرینِ معیشت اس اقدام کو پاکستان میں فن ٹیک (FinTech) سیکٹر کے لیے سنگِ میل قرار دے رہے ہیں، جس سے جہاں سرمایہ کاروں کو قانونی تحفظ ملے گا، وہاں ملکی معیشت میں دستاویزی لین دین کو بھی فروغ حاصل ہوگا