LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بلوچستان میں ٹرین سروس ایک روز کے لئے معطل مٹی سے سونے کا قیمتی نگٹ برآمد ایرانی عدالت نے ایوارڈ یافتہ فلمساز کو 5 سال قید کی سزا سنادی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کیلئے پولنگ کا آغاز ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا سکھیکی: مسافر بس سیم نالے میں گر گئی، 5 افراد جاں بحق، 40 زخمی برطانیہ نے 3 جوہری آبدوزوں کو ایک ساتھ سمندر میں اتار دیا 24 گھنٹوں میں یمنی فوج کی 749 ٹارگٹڈ کارروائیاں، 239 حوثی ہلاک یا زخمی اسرائیلی حملے، غزہ میں کم از کم 5 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے نیتن یاہو کے حریف گادی آئزن کوٹ کا اسرائیل میں تبدیلی لانے کے عزم کا اعادہ اسرائیل میں سیاسی ڈیڈ لاک کا خدشہ، نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں پڑ گیا ایران سفارت کاری کے ذریعے حل کیلئے ثالثوں سے قریبی رابطے میں ہے، عباس عراقچی بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی جیل سے پنجاب کارڈیالوجی منتقل وزیراعظم نے مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کا اہم اجلاس آج طلب کر لیا پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی حکومت سے مذاکرات کی حامی، طریقہ کار پر رہنما تقسیم

پاکستان میں کرپٹو کرنسی اور ورچوئل اثاثوں کے لیے تاریخی قانون نافذ؛ اسٹیٹ بینک نے ریگولیٹری فریم ورک جاری کر دیا

Web Desk

15 April 2026

پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کی جانب ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ورچوئل اثاثوں (Virtual Assets) کو قانونی حیثیت دینے اور ان کی باقاعدہ نگرانی کے لیے نیا قانون نافذ کر دیا ہے۔ اس نئے فریم ورک کے تحت “پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی” (PVARA) قائم کی گئی ہے جو تمام ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والے اداروں (VASPs) کو لائسنس جاری کرنے اور ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کی ذمہ دار ہوگی۔ اسٹیٹ بینک کے ریگولیٹڈ ادارے اب صرف ان سروس فراہم کنندگان کے اکاؤنٹس کھول سکیں گے جن کے پاس باقاعدہ لائسنس موجود ہوگا۔

نئے قانون کے مطابق، بینکوں کے لیے یہ لازمی ہوگا کہ وہ کسی بھی وی اے ایس پی (VASP) کا اکاؤنٹ کھولنے سے پہلے اس کے لائسنس کی مکمل تصدیق کریں اور ان کی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی یقینی بنائیں۔ صارفین کے تحفظ کے لیے یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ صارفین کے فنڈز کے لیے علیحدہ “کلائنٹ منی اکاؤنٹس” کھولے جائیں گے، اور کمپنی کے اپنے فنڈز کو صارفین کی رقوم کے ساتھ ملانا سختی سے ممنوع ہوگا۔ یہ تمام اکاؤنٹس صرف پاکستانی روپے میں چلائے جائیں گے اور ان میں نقد رقم جمع کرانے یا نکلوانے (Cash In/Out) کی اجازت نہیں ہوگی، تمام لین دین بینکنگ چینلز کے ذریعے ہوگا۔

اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ بینک اپنے ذاتی فنڈز یا صارفین کی جمع شدہ رقوم کو ورچوئل اثاثوں میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال نہیں کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ، بینکوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ مشکوک لین دین کی فوری رپورٹ فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (FMU) کو کریں تاکہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت جیسے خطرات کا سدِباب کیا جا سکے۔ ماہرینِ معیشت اس اقدام کو پاکستان میں فن ٹیک (FinTech) سیکٹر کے لیے سنگِ میل قرار دے رہے ہیں، جس سے جہاں سرمایہ کاروں کو قانونی تحفظ ملے گا، وہاں ملکی معیشت میں دستاویزی لین دین کو بھی فروغ حاصل ہوگا