LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
دفاعی معاہدے میں ایران، فلسطین اور دیگر اسلامی ممالک کو شامل کیا جائے: حافظ نعیم الرحمان مذاکرات میں ڈیڈلاک کی بنیادی وجہ بانی پی ٹی آئی تک رسائی ہے: اسد قیصر پی ٹی آئی والے یوٹرن لینے کے ماہر ہیں، کسی ایک بات پر قائم نہیں رہتے: عطا تارڑ ایران کا میزائلوں کی رینج اور رفتار بڑھانے کا فیصلہ، اپ گریڈیشن شروع اسلام آباد پر چڑھائی کرنے والے کس کا ایجنڈا پورا کرنا چاہتے ہیں؟ احسن اقبال امریکا شرائط مان لے تو آبنائے ہرمز ایک ہفتے میں کھول دیں گے: عباس عراقچی ماسکو فارمیٹ کا افغانستان سے متعلق آٹھواں مشاورتی اجلاس 5 اکتوبر کو ہو گا نانٹکیٹ کے ساحل کے قریب لاپتا طبی طیارے کا ملبہ مل گیا، 6 افراد تاحال لاپتا اپوزیشن کمیٹی کے ساتھ اچھا معاہدہ تیار ہوا، سہیل آفریدی نے سبوتاژ کر دیا: محسن نقوی پاک بھارت سرحد پر بلااشتعال بھارتی فائرنگ، شہید پاکستانی شہریوں کی نمازِ جنازہ ادا وزیراعظم کی محسن نقوی سے ملاقات، خیبرپختونخوا میں امن و امان کیلئے سخت فیصلوں پر غور وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات، اپوزیشن سے مذاکرات پر تبادلہ خیال خیبرپختونخوا حکومت تحریری معاہدے پر اتفاق کرکے آخری وقت میں پیچھے ہٹ گئی: محسن نقوی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مذاکراتی کمیٹی کو بھیجے ڈرافٹ کا مسودہ جاری کر دیا اسلام آباد مفاہمت کی 7 شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی: قالیباف

قائمہ کمیٹی اجلاس میں موبائل فونز پر ڈیوٹیز اور ٹیکسوں کی وصولی کا جائزہ

Web Desk

16 April 2026

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اہم اجلاس سید نوید قمر کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں موبائل فونز پر عائد بھاری ڈیوٹیز اور ٹیکسوں کے ڈھانچے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران چیئرمین ایف بی آر (FBR) راشد محمود لنگڑیال اور ٹیکس پالیسی حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ 500 ڈالر سے زائد مالیت کے درآمدی موبائل فونز پر ٹیکس کی شرح 54 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ حکام کے مطابق مہنگے فونز پر مجموعی طور پر 76 ہزار روپے ٹیکس، 18 فیصد جی ایس ٹی اور ساڑھے 11 ہزار روپے ودہولڈنگ ٹیکس عائد ہے۔

چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے ٹیکسوں کی اس بلند شرح پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب فونز پر سیلز ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے تو اضافی انکم ٹیکس کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں جدید ٹیکنالوجی کی آمد سے ہی معیشت میں بہتری ممکن ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ مقامی طور پر تیار کردہ فونز پر ٹیکس کا بوجھ نمایاں طور پر کم ہے، جہاں درآمدی فون پر 54 فیصد کے مقابلے میں مقامی فون پر یہ شرح 25 فیصد بنتی ہے۔ نوید قمر نے ہدایت کی کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں موبائل فونز کے حوالے سے ایک واضح اور سہولت کار ٹیکس پالیسی پیش کی جائے۔کمیٹی کے اراکین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے عام آدمی اور پروفیشنلز کے لیے اسمارٹ فونز تک رسائی کو آسان بنانا ضروری ہے۔ نوید قمر نے مزید کہا کہ حکومت کو ریونیو بڑھانے کے لیے ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ ایف بی آر حکام نے یقین دہانی کرائی کہ کمیٹی کی تجاویز کی روشنی میں بجٹ 2026-27 کے لیے موبائل فونز کی ٹیکس پالیسی کو ازسرِ نو مرتب کیا جائے گا تاکہ مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ صارفین پر بوجھ کم کیا جا سکے۔