LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی امید، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا زبردست تیزی پر اختتام سوئی گیس کا عید الاضحیٰ کے لیے نیا شیڈول جاری، صارفین کو سہولت دینے کا اعلان پاکستان میں گردشی قرض، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ پٹرول پر مقررہ ہدف سے زیادہ لیوی وصول کی جا رہی ہے، قائمہ کمیٹی میں انکشاف رضوان کی کپتانی میں ٹیم بہتر نتائج نہ دے سکی، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن امریکا ایران امن معاہدے کی توقع؛ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی کمی امریکی صدر کا سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ 2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان

قائمہ کمیٹی اجلاس میں موبائل فونز پر ڈیوٹیز اور ٹیکسوں کی وصولی کا جائزہ

Web Desk

16 April 2026

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اہم اجلاس سید نوید قمر کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں موبائل فونز پر عائد بھاری ڈیوٹیز اور ٹیکسوں کے ڈھانچے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران چیئرمین ایف بی آر (FBR) راشد محمود لنگڑیال اور ٹیکس پالیسی حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ 500 ڈالر سے زائد مالیت کے درآمدی موبائل فونز پر ٹیکس کی شرح 54 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ حکام کے مطابق مہنگے فونز پر مجموعی طور پر 76 ہزار روپے ٹیکس، 18 فیصد جی ایس ٹی اور ساڑھے 11 ہزار روپے ودہولڈنگ ٹیکس عائد ہے۔

چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے ٹیکسوں کی اس بلند شرح پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب فونز پر سیلز ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے تو اضافی انکم ٹیکس کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں جدید ٹیکنالوجی کی آمد سے ہی معیشت میں بہتری ممکن ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ مقامی طور پر تیار کردہ فونز پر ٹیکس کا بوجھ نمایاں طور پر کم ہے، جہاں درآمدی فون پر 54 فیصد کے مقابلے میں مقامی فون پر یہ شرح 25 فیصد بنتی ہے۔ نوید قمر نے ہدایت کی کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں موبائل فونز کے حوالے سے ایک واضح اور سہولت کار ٹیکس پالیسی پیش کی جائے۔کمیٹی کے اراکین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے عام آدمی اور پروفیشنلز کے لیے اسمارٹ فونز تک رسائی کو آسان بنانا ضروری ہے۔ نوید قمر نے مزید کہا کہ حکومت کو ریونیو بڑھانے کے لیے ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ ایف بی آر حکام نے یقین دہانی کرائی کہ کمیٹی کی تجاویز کی روشنی میں بجٹ 2026-27 کے لیے موبائل فونز کی ٹیکس پالیسی کو ازسرِ نو مرتب کیا جائے گا تاکہ مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ صارفین پر بوجھ کم کیا جا سکے۔