LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

فرانس میں فراری چلانے والا شخص بظاہر بےروزگار اور کنگال

Web Desk

17 February 2026

فرانس، ووکلیز: حال ہی میں فرانسیسی پولیس نے ایک سرخ فیراری فورٹوفینو تقریباً 250 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلانے والے شخص کو روکا، تو انہیں حیرت ہوئی کہ ڈرائیور ایک بےگھر اور نادار شخص تھا جو سرکاری امداد پر گزارا کر رہا تھا۔

پوچھ گچھ کے دوران اس شخص نے بتایا کہ اس کے پاس نہ ملازمت ہے، نہ کوئی اثاثہ اور نہ کوئی ذریعہ آمدنی ہے، حالانکہ وہ تقریبا 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر مالیت کی فیراری چلا رہا تھا۔

ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا کہ یہ شخص کئی سالوں سے سرکاری ویلفیئر سے حاصل ہونے والی آمدنی پر گزارا کر رہا تھا۔ جب گاڑی کے بارے میں پوچھا گیا، تو اس نے کہا کہ یہ اس کی والدہ کی ہے، تاہم ریکارڈ سے پتہ چلا کہ گاڑی ایک رئیل اسٹیٹ کمپنی کے نام رجسٹرڈ تھی جسے وہ، اس کی والدہ اور دو بہن بھائی چلا رہے تھے۔

بعد ازاں تفتیش میں انکشاف ہوا کہ خاندان نے حکومتی فنڈز ہتھیانے اور آمدنی ظاہر نہ کرنے کے ذریعے ٹیکس سے بچنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس دھوکہ دہی کے نتیجے میں یہ خاندان پُرتعیش زندگی گزار رہا تھا، جبکہ سرکاری ریکارڈ میں وہ بےروزگار اور دیوالیہ تھے اور اسی وجہ سے انہیں سرکاری مالی امداد مل رہی تھی۔

مجموعی طور پر دھوکہ بازوں نے سماجی مراعات کی مد میں کم از کم 1.8 ملین یورو کا غبن کیا، اور اس کے علاوہ 1.6 ملین یورو (1.9 ملین ڈالر) غیر ظاہر شدہ آمدنی حاصل کی۔ بعد ازاں پولیس نے اس خاندان کے تمام افراد کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا۔