LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

کنوارے مرد و خواتین کو رہائش نہ دینا غیرقانونی اور غیرآئینی قرار

Web Desk

5 February 2026

وفاقی محتسب سیکرٹریٹ برائے انسدادِ ہراسانی نے کنوارے مرد و خواتین کو رہائشی سہولت نہ دینے کو غیرقانونی، امتیازی اور آئین کے منافی قرار دے دیا ہے۔

یہ فیصلہ ایک خاتون درخواست گزار کی جانب سے نجی عمارت کی انتظامیہ کے خلاف دائر درخواست پر سنایا گیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ تمام شرائط پوری کرنے کے باوجود صرف بیچلر ہونے کی بنیاد پر انہیں رہائش دینے سے انکار کیا گیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی کرایہ داری معاہدہ کنوارے افراد کو رہائش دینے سے نہیں روکتا اور اس نوعیت کی پابندیاں واضح طور پر امتیازی ہیں۔ محتسب کے مطابق کنوارا ہونا کسی فرد کو رہائش سے محروم کرنے کی کوئی قانونی وجہ نہیں بن سکتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ایسی پابندیاں مساوات، انسانی وقار اور رہائشی آزادی جیسے بنیادی آئینی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں، اس لیے اس قسم کی تمام شرائط ابتدا ہی سے کالعدم تصور کی جائیں گی۔

وفاقی محتسب سیکرٹریٹ برائے انسدادِ ہراسانی نے یہ فیصلہ وفاقی و صوبائی حکام، رینٹ کنٹرولرز، ریگولیٹرز اور دیگر متعلقہ فریقین کو بھی ارسال کر دیا ہے تاکہ اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔