LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ملکی زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، ساڑھے 21 ارب ڈالر تک پہنچ گئے شہباز شریف کی رانا مبشر اقبال کی رہائش گاہ آمد، خالہ زاد بھائی کے انتقال پر تعزیت لاہور ہائیکورٹ کا نیا ججز روسٹر جاری، 2 نومبر سے 24 دسمبر تک بنچز مقدمات سنیں گے سٹیٹ بینک نے شرح سود میں 0.50 فیصد اضافہ کردیا، شرح 12 فیصد مقرر پاکستان اور ایتھوپیا کا تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت: دفترِ خارجہ فیلڈ مارشل کی تجویز پر ایران چار ملکی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے: اسماعیل بقائی سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ انتقال کر گئے الیکشن کمیشن کا انتخابی عمل میں اے آئی کا باقاعدہ استعمال کرنے کا فیصلہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کا وفاق سے پہلا رابطہ مکہ دفاعی اتحاد کے اعلیٰ حکام آج ایرانی قیادت سے ملاقات کریں گے شیخوپورہ: موٹروے پولیس کے 436 افسران کی 15ویں بنیادی پاسنگ آؤٹ پریڈ تین ملکی ٹورنامنٹ: انگلینڈ کیخلاف کامیابی پر محسن نقوی کی قومی ہیروز کو مبارکباد ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ فوجی تصادم کا خدشہ ظاہر کر دیا

پاکستان میں مقامی ویکسین کی تیاری کے لیے سعودی عرب کے ساتھ اعلیٰ سطحی تعاون

Web Desk

3 February 2026

اسلام آباد: مملکتِ سعودی عرب کا اعلیٰ سطحی وفد، جس کی قیادت منسٹر آف انڈسٹریز کے سینیئر ایڈوائزر نزار الحریری کر رہے ہیں، پاکستان پہنچ گیا ہے۔ وفد کا استقبال وزارتِ صحت اور وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام نے کیا۔

وفد کے دورے کے موقع پر وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال کی قیادت میں وزارتِ صحت کے اعلیٰ حکام کے ساتھ باضابطہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان میں ویکسین کی مقامی تیاری کے موجودہ انفراسٹرکچر، صلاحیتوں اور مستقبل کی ڈیمانڈ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں ڈریپ اور قومی ادارہ صحت کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز نے بھی اپنی رپورٹ پیش کی۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان کی آبادی تقریباً 24 کروڑ ہے اور ہر سال تقریباً 62 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، جبکہ حکومت 13 اقسام کی ویکسین شہریوں کو مفت فراہم کرتی ہے۔ تاہم، موجودہ ویکسینیں ملک میں تیار نہیں کی جاتیں اور ان پر سالانہ تقریباً 400 ملین ڈالر لاگت آتی ہے، جس کا 49 فیصد بین الاقوامی شراکت دار اور 51 فیصد حکومت برداشت کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2031 کے بعد بین الاقوامی امداد ختم ہونے پر حکومت کو تمام لاگت اپنی معیشت سے برداشت کرنا ہوگی، اور اگر ویکسین مقامی طور پر تیار نہ ہوئی تو سالانہ لاگت 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ وزیر صحت نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں وزارتِ صحت نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیے ہیں اور پاکستان میں تیرہ بیماریوں کی ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے عملی پیش رفت ہو رہی ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا یہ تعاون صحت کے شعبے میں خطے کے لیے ایک مثالی اشتراک ثابت ہوگا۔