LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات پمز واقعہ: لاپرواہی ثابت ہوئی تو کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا، وفاقی وزیر صحت پمز ہسپتال میں زیادہ بچوں کی اموات دم گھٹنے سے ہوئیں: طارق فضل چودھری

سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بھی 27ویں آئینی ترمیم دوتہائی اکثریت سے منظور

Web Desk

12 November 2025

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیم دوتہائی اکثریت سے منظور کرلی۔ ترمیم کے حق میں 234 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ 4 ارکان نے مخالفت کی۔

اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت ہوا، جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27ویں آئینی ترمیم کی تحریک پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ آئین اور قانون میں ترامیم ایک ارتقائی عمل ہیں، اور 27ویں ترمیم کے خدوخال سینیٹ میں پہلے ہی پیش کیے جاچکے ہیں۔

نئے آئینی ترمیمی بل میں 8 شقوں میں تبدیلیاں کی گئی ہیں، جبکہ شق وار ووٹنگ کے دوران تمام 59 شقیں منظور کرلی گئیں۔ اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی ہی چیف جسٹس پاکستان رہیں گے۔

جمعیت علمائے اسلام نے ترمیم کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ حکومت کے پاس اس وقت 233 ارکان کی حمایت موجود ہے جبکہ آئینی ترمیم کے لیے 224 ووٹ درکار تھے، اس طرح حکومت کی پوزیشن مستحکم رہی۔