مصنوعی ذہانت: یورپ، امریکہ اور چین میں کون آگے؟
Web Desk
27 January 2026
ماہرین کے مطابق یورپ مصنوعی ذہانت (AI) کی دنیا میں اپنی شاندار حکمت عملی کی وجہ سے پاور پلے کی دوڑ میں نمایاں ہے، مگر امریکہ اور چین اپنی رفتار اور سرمایہ کاری کی بدولت تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
ریاستہائے متحدہ امریکہ نے اب تک 40 سے زائد AI ماڈلز تیار کر لیے ہیں، جبکہ چین 15 ماڈلز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ یورپ نے اب تک صرف 3 ماڈلز پیش کیے ہیں اور زیادہ تر توجہ قوانین اور پالیسیوں پر مرکوز ہے۔ اس کے برعکس امریکہ اور چین ہر شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
تیسری دنیا کے ممالک جیسے بھارت، پاکستان، ملائشیا اور انڈونیشیا ابھی صرف AI کے صارف بننے کی صلاحیت پیدا کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اپنی مسابقت کو یقینی بنانے کے لیے AI کے لیے راہیں ہموار کر رہے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ
7 November 2026
میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
6 November 2026