LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جسے مردِ آہن بنا کر پیش کیا گیا، آج اسی کی جماعت ہسپتال منتقلی کی فریاد کر رہی: وزیر دفاع آن لائن فراڈ کیس: 284 غیر ملکیوں کی حراست کیلئے نجی پلازہ دوبارہ سب جیل قرار حکومت اور اپوزیشن میں معقول دوریاں ہونی چاہئیں، مخالفت برائے مخالفت نہیں: مولانا فضل الرحمان وزیراعظم شہباز شریف نے گوگل کے پاکستان آفس کا افتتاح کر دیا سپریم کورٹ کا بانی کے علاج سے متعلق تحریری فیصلہ جاری، میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’نیا امریکی علاقہ‘ قرار دے دیا، ایران کا شدید ردعمل پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، کاروبار کا منفی رجحان رہا پاکستان اور روس کے درمیان کلیدی شعبوں میں تعاون اور رابطے جاری رکھنے پر اتفاق سپریم کورٹ کا فیصلہ شاندار اور تاریخی، سیاسی بے چینی ختم ہوگی: شیخ رشید عدالتی حکم پر مکمل عمل، بانی کی صحت پر سیاست نہیں کریں گے: پی ٹی آئی اسرائیل اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو سبوتاژ کر رہا ہے: عباس عراقچی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم نے 90 ہزار جانوں کی قربانیاں دیں، عطا تارڑ پیٹرول مزید مہنگا ہونے پر جماعت اسلامی کی کل ملک گیر ہڑتال کی دھمکی پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیلئے حلقہ بندیاں مکمل، ریکارڈ الیکشن کمیشن کو ارسال سپریم کورٹ کا عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم

27ویں آئینی ترمیم: مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے تمام 49 ترامیم کی منظوری دے دی

Web Desk

9 November 2025

اسلام آباد: سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی برائے قانون و انصاف نے مجوزہ آئینی ترمیم کے پورے مسودے کی شق وار منظوری دیتے ہوئے تمام 49 ترامیم منظور کرلیں۔

اجلاس کی صدارت فاروق ایچ نائیک اور محمود بشیر ورک نے کی، جس میں کمیٹی اراکین سینیٹر طاہر خلیل سندھو، سینیٹر ہدایت اللہ، سینیٹر شہادت اعوان، علی حیدر گیلانی، سائرہ افضل تارڑ، بلال اظہر کیانی، سید نوید قمر، اور ابرار شاہ شریک ہوئے۔
سیکرٹری قانون راجہ نعیم اکبر سمیت وزارتِ قانون کے دیگر افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔

دوسری جانب، اپوزیشن جماعتوں — جن میں پی ٹی آئی، جے یو آئی، پی کے میپ اور ایم ڈبلیو ایم شامل ہیں — نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔
کمیٹی اراکین نے اپوزیشن کی غیرحاضری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اہم قومی قانون سازی سے اپوزیشن کا دور رہنا افسوسناک ہے۔

ذرائع کے مطابق، کمیٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کے کابینہ سے منظور شدہ مسودے کی منظوری دے دی، جو کل ایوان میں پیش کیا جائے گا، جبکہ اتحادی جماعتوں کی مجوزہ ترامیم پر مزید غور کل متوقع ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے ستائیسویں ترمیم پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
اے این پی کی جانب سے خیبرپختونخوا کے نام کی تبدیلی اور بلوچستان اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ سے متعلق ترامیم پر حکومت نے مزید وقت مانگ لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، کمیٹی نے آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم، آئینی عدالتوں کے قیام، اور زیرِ التوا مقدمات کے فیصلے کی مدت 6 ماہ سے بڑھا کر ایک سال کرنے کی منظوری بھی دے دی۔
نئی ترمیم کے تحت اگر ایک سال تک مقدمے کی پیروی نہ ہو تو اسے نمٹا ہوا تصور کیا جائے گا۔