LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدر پوتن برکس سربراہی اجلاس کی اہم سرگرمیوں میں شرکت کریں گے ریڈیو پاکستان کیس: پولیس رپورٹ میں سہیل آفریدی کے ملوث ہونے کی تصدیق بجلی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے 47 ارب ڈالر کے توسیعی منصوبے کی منظوری مریم نواز کی صاحبزادی ماہ نور صفدر کا اذان جبار سے نکاح، جاتی امرا میں سادہ اور پروقار تقریب اسلام آباد کو ایڈمنسٹریٹو یونٹ بنانے کیلئے حدود و قیود کے تعین پر کام شروع ماہ نور صفدر کی نکاح کی تقریب، شہباز شریف سمیت اہم شخصیات جاتی امرا پہنچ گئیں پرائیویٹ حج سکیم: 7600 عازمین کی بکنگ مکمل ہو چکی: ترجمان مذہبی امور نئے صوبوں کے قیام کیلئے پورے ملک میں ریفرنڈم کرایا جائے: فاروق ستار سندھ بلدیاتی ترمیمی ایکٹ 2026 پر خصوصی کمیٹی کا اجلاس بے نتیجہ ختم 20 ستمبر کو ہم حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے: حافظ نعیم الرحمان نئے صوبوں کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی، حکومت خود ریفرنڈم نہیں کرا سکتی:رانا ثناء اللہ مولانا فضل الرحمن نے جے یو آئی کی مرکزی مجلسِ عمومی کا اجلاس 19 اور 20 ستمبر کو پشاور میں طلب کر لیا روس میں بین الاقوامی یوتھ فیسٹیول کا آغاز، 250 پاکستانی نوجوان شریک پاکستان کی سعودی عرب میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ڈرون حملوں کی شدید مذمت آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ کی بحالی: وزیراعظم افتخار گیلانی کا اہم اعلان

پاکستان میں پانی کی دستیابی میں کمی اور پولیو کے حالات پر بریفنگ

Web Desk

21 January 2026

اسلام آباد: وزارت آبِی وسائل نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ بھارت نے اپریل 2025 سے سندھ طاس معاہدہ معطل کر رکھا ہے، جس کے نتیجے میں دریائے چناب اور خانکی ہیڈورکس سے نکلنے والی کنالوں کے تحت تقریباً 46.4 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوگی۔

وزارت نے آگاہ کیا کہ اس وقت فی کس سالانہ پانی کی دستیابی 819 مکعب میٹر ہے، جو 1951 میں 5 ہزار مکعب میٹر سے زیادہ تھی۔ پیش گوئی کے مطابق 2030 تک یہ مقدار کم ہو کر 744 مکعب میٹر فی کس رہ جائے گی، جس سے سماجی اور معاشی چیلنجز پیدا ہوسکتے ہیں۔

وزارت صحت نے بتایا کہ 2025 میں پاکستان میں پولیو کے 30 کیسز رپورٹ ہوئے، لیکن ستمبر کے بعد کسی نئے کیس کی رپورٹ نہیں ہوئی۔ گزشتہ چند ماہ میں پنجاب، بلوچستان، گلگت بلتستان، اسلام آباد، سندھ اور خیبر پختون خواہ سے کوئی پولیو کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ وزارت نے کہا کہ پولیو وائرس کی منتقلی میں تیزی سے کمی آ رہی ہے اور حکومت 2026 میں پولیو وائرس کی مکمل منتقلی روکنے کے ہدف کے حصول کے لیے پوری مشینری کے ساتھ کام کر رہی ہے۔