LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
دشمن کی نئی غلطی کا منہ توڑ جواب دیں گے، ایرانی آرمی چیف سعودی عرب اور یمن کو باب المندب میں حوثیوں کا کنٹرول قبول نہیں: روبیو امریکا سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کر رہا ہے، امریکی حکام نائجیریا میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 32 افراد سوار تھے مذاکرات ناکامی کی دو بنیادی وجوہات، اپوزیشن وفد بے اختیار تھا: طارق فضل چودھری نئی جنگ کی صورت میں خطے کے امریکی اتحادی بھی متاثر ہوں گے: ایران ’اپنی چھت، اپنا گھر‘ منصوبے کی کامیابی، مریم نواز کو عالمی اعزاز سے نواز دیا گیا خیبر پختونخوا کی صورتحال، ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں مختلف آپشنز پر مشاورت پنجاب کے بیشتر اضلاع میں 6 اور 7 اکتوبر کو بارش کی پیشگوئی، الرٹ جاری پاکستان پولینڈ تعلقات کو مضبوط شراکت داری میں بدلنے کے خواہاں ہیں: وزیراعظم بانی پی ٹی آئی سے پاکستان کی خاطر بات چیت کرنی چاہیے: علامہ ناصر عباس ایم ٹی آنر 25 کے باقی تین پاکستانی عملے کے ارکان بھی بحفاظت بازیاب تبدیلی گالیاں دینے سے نہیں، کچھ کر دکھانے سے آتی ہے: احسن اقبال جیٹ فیول کی قیمت میں 3 روز کے دوران 9 روپے سے زائد اضافہ افغانستان پر ماسکو فارمیٹ اجلاس، پاکستان کی اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت

بجلی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے 47 ارب ڈالر کے توسیعی منصوبے کی منظوری

Web Desk

12 September 2026

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) کے تیار کردہ ’انٹیگریٹڈ سسٹم پلان 35-2025‘ کی منظوری دیتے ہوئے 2035 تک ملک کی بجلی پیداوار اور ترسیل کے لیے 47 ارب ڈالر سے زائد کے توسیعی منصوبے کی توثیق کر دی ہے۔ منصوبے کے مطابق 2035 تک بجلی کی طلب 26,950 میگاواٹ سے بڑھ کر 35,521 میگاواٹ تک پہنچنے کا امکان ہے، جسے پورا کرنے کے لیے 26,045 میگاواٹ نئی پیداواری صلاحیت درکار ہو گی۔ اس دوران پیداواری منصوبوں پر 47.13 ارب ڈالر اور ترسیلی نظام کی اپ گریڈیشن پر 10.65 ارب ڈالر لاگت آئے گی، جبکہ 90 کروڑ ڈالر کی بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (BESS) سرمایہ کاری اور کے الیکٹرک کی ٹرانسمیشن لائن کے غیر حقیقت پسندانہ ٹائم فریم کو مسترد کر دیا گیا ہے۔

نیپرا کے اس فیصلہ پر ادارے کے اندر سے ہی شدید تحفظات اور اختلافی نوٹس سامنے آئے ہیں۔ رکن نیپرا امینہ احمد نے اپنے اختلافی نوٹ میں انکشاف کیا کہ کے الیکٹرک کی جانب سے حاصل کردہ 3.09 سینٹ فی یونٹ کی تاریخ کی سب سے سستی قابلِ تجدید بجلی کو آئی ایس ایم او نے ایک سال سے زائد عرصے تک سسٹمز میں شامل ہی نہیں کیا اور غلط اعداد و شمار کا استعمال کیا۔ اسی طرح رکن مقصود انور خان نے خیبر پختونخوا کے چند اہم پن بجلی منصوبوں کو بغیر جواز خارج کرنے پر اعتراض اٹھایا۔ دوسری جانب چیئرمین نیپرا وسیم مختار اور مختلف اسٹیک ہولڈرز نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں پہلے ہی 15 سے 20 گیگاواٹ اضافی صلاحیت موجود ہے، اور سولرائزیشن کے باعث قومی گرڈ پر دن کی طلب کم ہو کر 12,000 میگاواٹ رہ گئی ہے، جس کے باعث مزید غیر متوازن سرمایہ کاری گردشی قرضے اور کیپیسٹی پیمنٹس میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے