LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
چینی صدر کی امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں کردار ادا کرنے کی پیشکش امریکی نمائندے کیف میں کوئی نئی تجاویز لے کر نہیں آئے، دفتر یوکرینی صدر فوجی صلاحیتیں دشمن کی توقعات سے کہیں زیادہ، قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کریں گے: سربراہ ایرانی فوج امریکا محاصرہ اور جارحیت ختم کرے تو آبنائے ہرمز کھول دیں گے، ایرانی صدر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کر لیے تو وہ اسرائیل کو تباہ کر دے گا، امریکی صدر یوکرین سے مذاکرات کیلئے تیار، خصوصی فوجی آپریشن نہیں روکیں گے: لاوروف علی ناصر رضوی ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے اور خرم آغا نیشنل پولیس بیورو تعینات ڈیجیٹل اثاثوں کے مؤثر ضابطے کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے: بلال بن ثاقب آصف زرداری کا بیرونِ ملک دورہ نجی، اخراجات خود برداشت کئے: ایوانِ صدر کی وضاحت عوام کو سہولتوں کی فراہمی کیلئے مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے: رضا ربانی فلسطینیوں کی جبری بے دخلی مسترد، برکس ممالک کی دو ریاستی حل کی حمایت محدود ممالک کے مفادات کا تحفظ کرنے والا یک قطبی عالمی نظام ماضی کا حصہ بن رہا ہے: پوتن ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں سے بات چیت نہیں ہوگی: وزیراعلیٰ بلوچستان صدر پوتن برکس سربراہی اجلاس کی اہم سرگرمیوں میں شرکت کریں گے ریڈیو پاکستان کیس: پولیس رپورٹ میں سہیل آفریدی کے ملوث ہونے کی تصدیق

بجلی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے 47 ارب ڈالر کے توسیعی منصوبے کی منظوری

Web Desk

12 September 2026

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) کے تیار کردہ ’انٹیگریٹڈ سسٹم پلان 35-2025‘ کی منظوری دیتے ہوئے 2035 تک ملک کی بجلی پیداوار اور ترسیل کے لیے 47 ارب ڈالر سے زائد کے توسیعی منصوبے کی توثیق کر دی ہے۔ منصوبے کے مطابق 2035 تک بجلی کی طلب 26,950 میگاواٹ سے بڑھ کر 35,521 میگاواٹ تک پہنچنے کا امکان ہے، جسے پورا کرنے کے لیے 26,045 میگاواٹ نئی پیداواری صلاحیت درکار ہو گی۔ اس دوران پیداواری منصوبوں پر 47.13 ارب ڈالر اور ترسیلی نظام کی اپ گریڈیشن پر 10.65 ارب ڈالر لاگت آئے گی، جبکہ 90 کروڑ ڈالر کی بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (BESS) سرمایہ کاری اور کے الیکٹرک کی ٹرانسمیشن لائن کے غیر حقیقت پسندانہ ٹائم فریم کو مسترد کر دیا گیا ہے۔

نیپرا کے اس فیصلہ پر ادارے کے اندر سے ہی شدید تحفظات اور اختلافی نوٹس سامنے آئے ہیں۔ رکن نیپرا امینہ احمد نے اپنے اختلافی نوٹ میں انکشاف کیا کہ کے الیکٹرک کی جانب سے حاصل کردہ 3.09 سینٹ فی یونٹ کی تاریخ کی سب سے سستی قابلِ تجدید بجلی کو آئی ایس ایم او نے ایک سال سے زائد عرصے تک سسٹمز میں شامل ہی نہیں کیا اور غلط اعداد و شمار کا استعمال کیا۔ اسی طرح رکن مقصود انور خان نے خیبر پختونخوا کے چند اہم پن بجلی منصوبوں کو بغیر جواز خارج کرنے پر اعتراض اٹھایا۔ دوسری جانب چیئرمین نیپرا وسیم مختار اور مختلف اسٹیک ہولڈرز نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں پہلے ہی 15 سے 20 گیگاواٹ اضافی صلاحیت موجود ہے، اور سولرائزیشن کے باعث قومی گرڈ پر دن کی طلب کم ہو کر 12,000 میگاواٹ رہ گئی ہے، جس کے باعث مزید غیر متوازن سرمایہ کاری گردشی قرضے اور کیپیسٹی پیمنٹس میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے