LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کے سخت گیر دھڑے نے امریکا کیساتھ جون میں طے پانے والا امن معاہدہ سبوتاژ کیا، امریکی اخبار ایران نے جنگ شروع نہیں کی، امریکی و اسرائیلی جارحیت کیخلاف دفاع پر مجبور ہوا، صدر مسعود پزشکیان ایران کے علاقے سیرک میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنائی دی گئیں، ایرانی میڈیا سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا رواں مالی سال کا دوسرا اجلاس آج ہوگا ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان مذاکرات کیلئے آج عمان میں ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا زیلنسکی کا توانائی تنصیبات پر جوابی حملوں کا بیان کشیدگی بڑھانے کی کوشش ہے، کریملن ایران جنگ کے اثرات، امریکا میں ڈیزل کی قیمت 6 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی سعودی عرب کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: فیصل بن فرحان پنجاب میں 13 سے 17 ستمبر تک دفعہ 144 نافذ، اجتماعات اور مظاہروں پر پابندی پڑوسی ممالک ایران پر حملوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دیں: پزشکیان مصطفیٰ کمال جس دن مناظرے کا کہیں، میں تیار ہوں: مرتضیٰ وہاب عمان مذاکرات کا کسی صورت یہ مطلب نہیں کہ آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی: عراقچی حنا جاوید قتل کیس: مقتولہ کے بھائی کا قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو فوری مداخلت کیلیے دوسرا خط نئے صوبوں کا معاملہ قومی مشاورت سے حل ہونا چاہیے: چودھری شجاعت حسین افغانستان پاکستان کیخلاف دہشت گردی کا اہم مرکز بن چکا ہے: واشنگٹن پوسٹ

سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بھی 27ویں آئینی ترمیم دوتہائی اکثریت سے منظور

Web Desk

12 November 2025

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیم دوتہائی اکثریت سے منظور کرلی۔ ترمیم کے حق میں 234 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ 4 ارکان نے مخالفت کی۔

اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت ہوا، جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27ویں آئینی ترمیم کی تحریک پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ آئین اور قانون میں ترامیم ایک ارتقائی عمل ہیں، اور 27ویں ترمیم کے خدوخال سینیٹ میں پہلے ہی پیش کیے جاچکے ہیں۔

نئے آئینی ترمیمی بل میں 8 شقوں میں تبدیلیاں کی گئی ہیں، جبکہ شق وار ووٹنگ کے دوران تمام 59 شقیں منظور کرلی گئیں۔ اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی ہی چیف جسٹس پاکستان رہیں گے۔

جمعیت علمائے اسلام نے ترمیم کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ حکومت کے پاس اس وقت 233 ارکان کی حمایت موجود ہے جبکہ آئینی ترمیم کے لیے 224 ووٹ درکار تھے، اس طرح حکومت کی پوزیشن مستحکم رہی۔