LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق رپورٹ انتہائی تشویشناک ہے: سہیل آفریدی ٹرمپ نے عمان کو آبنائے ہرمز میں مداخلت پر حملے کی دھمکی دیدی چیف جسٹس سے انگلینڈ اینڈ ویلز ہائی کورٹ کے جج جسٹس کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت ملے گی: رانا ثناء اللہ وفاقی آئینی عدالت کا کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے حق میں بڑا فیصلہ بلوچستان ہائیکورٹ نے زیارت پولیس حملہ کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کر دیا پاکستان اور قطرموجودہ کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں: اسماعیل بقائی عمران خان کی صحت اور جیل ملاقاتوں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل، پولنگ ڈے کا فیصلہ 20 اگست کو متوقع پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا دوسرے روز میں داخل پشاور ہائیکورٹ کے 4 مستقل ہونے والے ججز نے حلف اٹھا لیا سکیورٹی فورسز کا بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک طالبان حکومت خود خطے کو غیر مستحکم کرنے کیلئے پراکسی بن چکی ہے: عاصم افتخار عمرہ زائرین اور ورکرز کیلئے پاکستانی سفارت خانے کی اہم ہدایات وفاقی حکومت کے قرضوں میں 18ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ

سیٹلائٹس کو ٹکراؤ سے بچانے کے لیے چین اور امریکہ کا ’غیر معمولی‘ خلائی تعاون

Web Desk

8 November 2025

چین اور امریکہ کے خلائی اداروں نے حال ہی میں ایک دوسرے کے سیٹلائٹس کو ٹکراؤ سے بچانے کے لیے ان کی پوزیشن کے حوالے سے تعاون کیا، جو خلائی ٹریفک کے انتظام کے لیے غیر معمولی مثال ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کے ڈائریکٹر ایل ون ڈریو نے سڈنی میں منعقدہ انٹرنیشنل ایسٹروناٹیکل کانگریس میں کہا: ’ہم نے اس موقعے پر تھوڑی خوشی منائی کیونکہ پہلی بار چینی نیشنل سپیس ایجنسی نے ہم سے رابطہ کیا اور کہا کہ ہمارے سیٹلائٹس ایک دوسرے کے قریب سے گزرنے والے ہیں۔ ہم تجویز کرتے ہیں کہ آپ اپنی پوزیشن پر قائم رہیں۔ ہم اپنے سیٹلائٹس کو حرکت کے ذریعے اس خطرے سے بچائیں گے اور یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ایسا تعاون سامنے آیا۔‘چین اور امریکہ زمین کے گرد مدار میں بڑی تعداد میں سیٹلائٹس بھیج رہے ہیں، جنہیں میگا کانسٹلیشن کہا جاتا ہے لیکن اس سے تصادم کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق زمین کے نچلے مدار میں تقریباً دو لاکھ فلکی اجسام موجود ہیں، جن کا سائز ایک سینٹی میٹر سے 10 سینٹی میٹر کے درمیان ہے جب کہ لاکھوں ٹکڑے 10 سینٹی میٹر سے بڑے ہیں، جو سیٹلائٹس کے لیے مخصوص اس مدار میں ازدحام پیدا کر رہے ہیں۔