LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
گولہ بارود اور ہتھیاروں کا ذخیرہ موجودہ ضروریات سے کہیں زیادہ ہے، ٹرمپ ایران امریکا جنگ میں وقفے سے خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی آزاد کشمیر الیکشن: کوٹلی میں 2 پریزائیڈنگ افسران معطل، گرفتار کر لیا گیا رانا ثنا اللہ نے ایل اے 10 کوٹلی میں انتخاب روکنے کا مطالبہ کر دیا دشمن اب دباؤ کے ذریعے ایرانی قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، مشیر سپریم لیڈر ایران نے لبنانی جنگجوؤں کا دفاع اپنی سٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے، ایرانی سپریم لیڈر کراچی: جمالی پل کے قریب منی ٹرک نے شہریوں کو کچل ڈالا، 3 افراد جاں بحق آبنائے ہرمز سے گزرنے والا آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ بھارتی وزیرِ دفاع کے کشمیر سے متعلق اشتعال انگیز بیانات، پاکستان کی شدید مذمت لیگی قیادت حقیقی معنوں میں عوام کی امنگوں کی ترجمان ہے، مریم اورنگزیب کیپٹن محمد سرور شہید کا 78واں یوم شہادت، مسلح افواج کے سربراہان کا خراج عقیدت جنوبی افریقہ میں فائرنگ، دو سگے بھائیوں سمیت چار پاکستانی جاں بحق یوکرین نے اسرائیل کے کہنے پر ایرانی جہاز کو نشانہ بنایا: عباس عراقچی بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملے ایرانی ایجنڈے کی تکمیل ہیں: یمنی وزیراعظم ٹرمپ نے ایران کو سفارتکاری کا موقع دینے کیلئے حملے روکے: مائیک والٹز

سیٹلائٹس کو ٹکراؤ سے بچانے کے لیے چین اور امریکہ کا ’غیر معمولی‘ خلائی تعاون

Web Desk

8 November 2025

چین اور امریکہ کے خلائی اداروں نے حال ہی میں ایک دوسرے کے سیٹلائٹس کو ٹکراؤ سے بچانے کے لیے ان کی پوزیشن کے حوالے سے تعاون کیا، جو خلائی ٹریفک کے انتظام کے لیے غیر معمولی مثال ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کے ڈائریکٹر ایل ون ڈریو نے سڈنی میں منعقدہ انٹرنیشنل ایسٹروناٹیکل کانگریس میں کہا: ’ہم نے اس موقعے پر تھوڑی خوشی منائی کیونکہ پہلی بار چینی نیشنل سپیس ایجنسی نے ہم سے رابطہ کیا اور کہا کہ ہمارے سیٹلائٹس ایک دوسرے کے قریب سے گزرنے والے ہیں۔ ہم تجویز کرتے ہیں کہ آپ اپنی پوزیشن پر قائم رہیں۔ ہم اپنے سیٹلائٹس کو حرکت کے ذریعے اس خطرے سے بچائیں گے اور یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ایسا تعاون سامنے آیا۔‘چین اور امریکہ زمین کے گرد مدار میں بڑی تعداد میں سیٹلائٹس بھیج رہے ہیں، جنہیں میگا کانسٹلیشن کہا جاتا ہے لیکن اس سے تصادم کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق زمین کے نچلے مدار میں تقریباً دو لاکھ فلکی اجسام موجود ہیں، جن کا سائز ایک سینٹی میٹر سے 10 سینٹی میٹر کے درمیان ہے جب کہ لاکھوں ٹکڑے 10 سینٹی میٹر سے بڑے ہیں، جو سیٹلائٹس کے لیے مخصوص اس مدار میں ازدحام پیدا کر رہے ہیں۔