ملک میں مہنگائی ایک سال کی بلند ترین سطح پر، شرح 6.24 فیصد تک پہنچ گئی
Web Desk
3 November 2025
اسلام آباد (ویب ڈیسک) ملک میں مہنگائی نے ایک بار پھر عوام کی مشکلات بڑھا دیں اور سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 6.24 فیصد تک پہنچ گئی، جو گزشتہ ایک سال کی بلند ترین سطح قرار دی جارہی ہے۔ صرف اکتوبر کے مہینے میں مہنگائی میں 1.83 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ حکومت نے اس دوران مہنگائی کا تخمینہ 5 سے 6 فیصد کے درمیان لگایا تھا۔
اعدادوشمار کے مطابق شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح 6 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں یہ 6.6 فیصد رہی۔ اکتوبر میں سب سے زیادہ قیمتوں میں اضافہ ٹماٹر، پیاز، سبزیوں، آٹے، گندم اور انڈوں کی قیمتوں میں دیکھا گیا۔
- ٹماٹر کی قیمتوں میں 58 فیصد، جبکہ پیاز میں 19 فیصد اضافہ ہوا۔
- سبزیوں کی قیمتیں 22 فیصد، گندم 10.5 فیصد اور آٹا 5.5 فیصد تک مہنگا ہوا۔
- انڈوں میں 22 فیصد، مچھلی میں 4 فیصد اور آلو 2.6 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
- پھل، مکھن، گھی اور کوکنگ آئل بھی مہنگی ہونے والی اشیا میں شامل رہیں۔
دوسری جانب کچھ اشیا کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھنے میں آئی۔ زندہ برائلر مرغی 21.51 فیصد تک سستی ہوئی، جبکہ آلو، بیسن، دال چنا، دال مسور، مونگ، مشروبات اور شہد کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سبزیوں اور غذائی اجناس کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ موسم، رسد میں کمی اور ٹرانسپورٹیشن لاگت بڑھنے کے باعث سامنے آیا ہے، جبکہ آنے والے مہینوں میں مہنگائی کے رجحان کا دارومدار حکومتی اقدامات اور سپلائی چین کی بہتری پر ہوگا۔
مہنگائی کے یہ تازہ ترین اعداد و شمار عوام کے لیے تشویشناک اور پالیسی ساز اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آئے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
اسرائیل کی سفاکیت کم نہ ہوئی، ڈرون حملے میں مزید 2 فلسطینی شہید، متعدد زخمی
5 July 2026
یورپ میں شدید گرمی کی لہر برقرار، اموات 4 ہزار سے تجاوز کر گئیں
5 July 2026
عمران خان کی اہلیہ نے اپنے شوہر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کروا دیا
5 July 2026
اسرائیلی فوج کے سربراہ کا لبنان میں فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان
5 July 2026
مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، باقر قالیباف
5 July 2026
کوئی بھی ادارہ قانون کے عطا کردہ اختیارات سے تجاوز نہیں کرسکتا، وفاقی ٹیکس محتسب
5 July 2026
شہر قائد میں پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے 2 نوجوان زخمی
5 July 2026
شاہراہ قراقرم ایک بار پھر بند ہوگئی
5 July 2026