LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بنگلادیشی صدر محمد شہاب الدین اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے جیفری ایپسٹین کے نام ٹرمپ کا فحش خط منظرعام پر لانیوالے صحافیوں کیلئے ایوارڈ کا اعلان ٹرمپ کا بڑا اعلان، تیسری بار صدر بننے کی خواہش ظاہر کر دی 18 ارب ڈالر کا تیل فروخت کر چکے، ایران کا دعویٰ یوکرین نے بحیرہ کیسپیئن میں ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ کر دیا روس کے جوہری دفاع نظام کا بحری حصہ مزید طاقتور بن رہا ہے: پوتن سعودی امریکا جوہری معاہدے میں اسرائیل سے تعلقات کی شرط کی تردید دریائے سندھ میں کالاباغ، چشمہ اور تونسہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ملک عمران خلیل پی ٹی آئی برطانیہ اور آصف بٹ نارتھ ویسٹ کے صدر منتخب وزیراعظم کا جنوبی وزیرستان میں دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنانے پر فورسز کو خراجِ تحسین نیویارک کے میئر ظہران ممدانی بھی پاکستانی گلوکار شمعون اسماعیل کے مداح نکلے چیف الیکشن کمشنر کی میرپور ڈویژن کے عوام سے انتخابات میں بھرپور شرکت کی اپیل صدر ٹرمپ نے فی الحال ایران پر حملوں میں شدت نہ لانے کا فیصلہ کر لیا: امریکی میڈیا حوثیوں کے سعودی شہروں ینبع اور جازان میں آرامکو تنصیبات پر میزائل و ڈرون حملے محسن نقوی کا تربت میں ایف سی کے جدید ترین ہسپتال کا افتتاح

یمن کا یو اے ای کے ساتھ دفاعی معاہدہ ختم کرنے کا اعلان

Web Desk

30 December 2025

یمن کی صدارتی کونسل (پی ایل سی) کے سربراہ رشاد العلیمی نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق رشاد العلیمی نے یمن میں موجود یو اے ای کی تمام فورسز کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یمن کی تمام بندرگاہوں اور زمینی و بحری گزرگاہوں پر 72 گھنٹوں کے لیے مکمل فضائی، زمینی اور بحری ناکہ بندی نافذ کی جا رہی ہے۔ یہ احکامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے یمن میں محدود فضائی کارروائی کرتے ہوئے مکلا بندرگاہ کو نشانہ بنایا۔

سعودی اتحاد کے مطابق کارروائی یو اے ای کی حمایت یافتہ جنوبی علیحدگی پسند تنظیم سدرن ٹرانزیشنل کونسل (STC) کو فراہم کی جانے والی غیر ملکی فوجی معاونت کے خلاف کی گئی۔ دوسری جانب سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے یو اے ای کے اقدامات کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خطے کے استحکام کے لیے سنگین خدشات پیدا کر سکتے ہیں۔