LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خیبرپختونخوا کے حالات خراب ہیں، گورنر راج پر غور ہو رہا ہے: بیرسٹر عقیل موٹروے سمیت اہم قومی شاہراہیں آج شام سے ٹریفک کیلئے مکمل بند رہیں گی چینی صدر کا ٹرمپ پر تائیوان کو اسلحہ فروخت روکنے کیلئے دباؤ ڈالنے کا امکان طالبان دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی ختم کریں، اسحاق ڈار کا مطالبہ احتجاج، دھرنے جاری، حافظ نعیم الرحمان کا لیوی ختم کرانے تک پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق گمراہ کن رپورٹنگ کی وضاحت جاری کر دی ایران کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، اب مشرق وسطیٰ میں غنڈہ گردی نہیں کر سکتا: ٹرمپ مفاہمت اور مکالمے سے سیاسی و معاشی استحکام آئے گا: چودھری سرور پنجاب میں امن و امان کی صورتحال حوصلہ افزا، مختلف آپریشنز جاری ہیں: مریم نواز افغانستان سے منشیات سمگلنگ میں ملوث گروہ کیخلاف امریکا، پاکستان کی مشترکہ کارروائی پوتن اور سعودی ولی عہد کا رابطہ، مشرق وسطیٰ اور خلیج کی صورتحال پر گفتگو پاک روس مشترکہ فوجی مشق دروزبہ 9 اور پاک عمان مشق وشاق الجبل 2 کا آغاز سعودی عرب نے ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن دوبارہ فعال کردی سابق بھارتی فوجی افسر کا پاکستان میں دہشتگردی کیلئے افغان سرزمین کے استعمال کا اعتراف

صدر ٹرمپ نے فی الحال ایران پر حملوں میں شدت نہ لانے کا فیصلہ کر لیا: امریکی میڈیا

Web Desk

26 July 2026

امریکی میڈیا اداروں ‘نیویارک ٹائمز’، ‘ایگزیوس’، ‘سی این این’ اور ‘اے پی’ کی رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جارحانہ فوجی کارروائیوں میں فی الحال شدت نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق یہ قدم دفاعی حکام کی جانب سے پیٹریاٹ میزائلوں کے محدود ہوتے ذخائر اور خلیج فارس میں عرب اتحادیوں کے دور ہونے کے خدشات کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے، جس کے بعد مسلسل دو راتوں سے امریکی فضائی حملے روک دیے گئے ہیں۔ ‘نیویارک ٹائمز’ نے بتایا کہ جنرل ڈین کین اور نائب صدر جے ڈی وینس نے ٹرمپ کو فضائی دفاعی صلاحیتیں متاثر ہونے اور جنگ کے طویل اثرات سے خبردار کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے ان رپورٹس پر بظاہر موقف دیا ہے کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ دوسری جانب عمان کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تہران کے ساتھ معاہدے کی پیشرفت کے لیے تہران میں موجود ہے۔